سوال:
مفتی صاحب! میں کراچی میں رہتا ہوں اور میری حج کی دبئی سے کنکٹنگ فلائٹ ہے تو میں احرام دبئی سے باندھوں گا، معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا میں احرام کے دو نفل سلے ہوئے کپڑوں میں گھر میں پڑھ لوں اور دبئی ائیرپورٹ پورٹ پر احرام باندھ لوں؟
جواب: واضح رہے کہ احرام پہننے کے بعد تلبیہ پڑھنے سے پہلے دو رکعت پڑھنا سنت ہے، احرام پہننے سے پہلے سلے ہوئے کپڑوں میں اس نماز کا پڑھنا کسی روایت میں ثابت نہیں ہے، اس لیے اگر آپ کو دبئی ائیرپورٹ پر موقع ملے تو احرام پہننے کے بعد دو رکعت نماز ادا کرلیں، لیکن اگر کسی وجہ سے آپ کو نماز پڑھنے کا موقع نہ ملے، تب بھی احرام پہننے کے بعد نیت کرنے اور تلبیہ پڑھنے سے آپ کا احرام درست ہو جائے گا، البتہ اس موقع پر گھر سے نکلتے وقت آپ سفر کے دو رکعت نفل پڑھ سکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول تھا کہ سفر پر نکلنے سے پہلے گھر میں دو رکعت نفل ادا فرماتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*مختصر القدوری:(ص: 65، ط: دار الكتب العلمية)*
وإذا أراد الإحرام اغتسل أو توضأ - والغسل أفضل - ولبس ثوبين جديدين أو غسيلين إزارا ورداء ومس طيبا إن كان له طيب وصلى ركعتين وقال: اللهم إني أريد الحج فيسره لي وتقبله مني ثم يلبي عقيب صلاته۔
*غنیة الناسک: (ص: 73، ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیة)*
ثم يسن أن يصلي ركعتين بعد اللبس ينوي بها سنة الإحرام ليحرز فضيلة السنة، وإلا فلو أطلق جاز۔
*رد المحتار: (2/24، ط: دارالفکر)*
مَطْلَبٌ فِي رَكْعَتَيْ السَّفَرِ؛
(قَوْلُهُ رَكْعَتَا السَّفَرِ وَالْقُدُومِ مِنْهُ) عَنْ مِقْطَمِ بْنِ الْمِقْدَامِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - ﷺ - «مَا خَلَّفَ أَحَدٌ عِنْدَ أَهْلِهِ أَفْضَلَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ يَرْكَعُهُمَا عِنْدَهُمْ حِينَ يُرِيدُ سَفَرًا» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - ﷺ - لَا يَقْدَمُ مِنْ السَّفَرِ إلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَى، فَإِذَا قَدِمَ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ فِيهِ» رَوَاهُ مُسْلِمٌ شَرْحُ الْمُنْيَةِ. *وَمُفَادُهُ اخْتِصَاصُ صَلَاةِ رَكْعَتَيْ السَّفَرِ بِالْبَيْتِ، وَرَكْعَتَيْ الْقُدُومِ مِنْهُ بِالْمَسْجِدِ* وَبِهِ صَرَّحَ الشَّافِعِيَّةُ۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی