سوال:
حرمین میں تراویح میں مکمل قرآن کریم نہیں پڑھا جاتا، قرآن کریم کا کچھ حصّہ آخری عشرے میں تہجد میں مکمل کیا جاتا ہے تو کیا تہجد کی جماعت میں تراویح کی نیت سے شریک ہوسکتے ہیں؟
اگر تہجد میں تراویح کی نیت سے اقتداء نہیں کر سکتے تو مکمل قرآن مجید کی سماع کی سنت کیسے پوری ہوگی؟
جواب: 1 / 2) اگرچہ فقہ حنفی کے مطابق تداعی کے ساتھ تہجد کی جماعت کرنا مکروہ ہے، لیکن حرمین شریفین میں جو ائمہ امامت کرتے ہیں، ان کے مسلک کے مطابق یہ جائز ہے، اس لیے حنفی شخص کے لیے تہجد ہی کی نیت سے ان کی اقتدا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
تاہم تہجد کی جماعت میں تراویح کی نماز ادا نہیں ہوگی، بلکہ یہ تہجد کے نوافل ہی شمار ہوں گے، حنفی لوگوں کو چاہیے کہ تراویح کی دس رکعتیں امام کے ساتھ پڑھنے کے بعد باقی کی دس رکعتیں خود ہی ادا کرلیں، چاہے اکیلے ادا کرلیں یا چند لوگ مل کر جماعت کرلیں۔ اور اگر کسی حافظ کا بندوبست ہوجائے تو یہ زیادہ بہتر ہے، تاکہ قرآن کا جو حصہ رہ جائے اس کے ساتھ پورا کرلیا جائے، اور اس طرح تراویح میں پورا قرآن شریف پڑھنے یا سننے کی سنت بھی ادا ہوجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار مع رد المحتار: (2/ 48، ط: دار الفكر)
«(ولا يصلي الوتر و) لا (التطوع بجماعة خارج رمضان) أي يكره ذلك على سبيل التداعي، بأن يقتدي أربعة بواحد كما في الدرر، ولا خلاف في صحة الاقتداء إذ لا مانع نهر.»
رد المحتار: (قوله على سبيل التداعي) هو أن يدعو بعضهم بعضا كما في المغرب، وفسره الواني بالكثرة وهو لازم معناه.
الأساس في السنة وفقهها – الفقه العام: (3/ 1299، ط: دار السلام)
«قال التهانوي: (في الحديث دلالة على كون النوافل في البيت أفضل منها في المسجد وعلى كون الجماعة مختصة بالمكتوبة، وأما النوافل فالأصل فيها الإخفاء) وقال: (ومقتضى هذا الدليل أن تكره الجماعة في النفل والوتر مطلقاً إلا أنا قيدناه بالتداعي وهو أن يدعو بعضهم بعضاً، وفسره الفقهاء بالكثرة لما ورد عنه صلى الله عليه وسلم التنفل بالجماعة أحياناً من غير تداع منه).
ثم قال: (وتفسير التداعي بالاهتمام والمواظبة أولى من تفسيرها بالعدد والكثرة كما لا يخفى. واستثنى العلماء صلاة التطوع في ليالي رمضان جماعة لما سيرد من الأدلة).
قال في الخلاصة: (ولا يصلى التطوع بجماعة إلا في رمضان) ا. ه (إعلاء السنن 7/ 77 - 81).»
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی