سوال:
مفتی صاحب! ایک حاجی صاحب نے پاکستان سے جاتے ہوئے احرام نہیں باندھا اور جدہ ائیرپورٹ پر پہنچ کر باندھ لیا ہو تو کیا ان پر جدہ ایئرپورٹ پر احرام باندھنے سے دم لازم ہوگا؟ کیونکہ ہم نے سنا ہے کہ جدہ ائیرپورٹ میقات کے اندر ہے اور اس سے پہلے احرام باندھنا لازم ہوتا ہے۔ براہ کرم جلد ہی اس مسئلہ کی وضاحت فرمادیں۔
جواب: مذکورہ صورت میں حاجی صاحب پر دم واجب ہو چکا ہے، کیونکہ پاکستان جیسے میقات سے باہر علاقوں سے آنے والے افراد فقہی اصطلاح میں “آفاقی” کہلاتے ہیں، اور آفاقی کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ مکہ مکرمہ جانے کی نیت سے میقات کو احرام کے بغیر عبور نہ کرے۔ چونکہ جدّہ اور اس کا ایئرپورٹ حدودِ میقات کے اندر واقع ہیں، جبکہ پاکستان سے آنے والے ہوائی مسافروں کی میقات (قرن المنازل یا یلملم کی محاذات) جدہ پہنچنے سے پہلے فضا ہی میں گزر جاتی ہے، اس لیے اگر کسی شخص نے میقات عبور کرنے کے بعد جدّہ پہنچ کر احرام باندھا تو اس نے میقات سے بغیر احرام کے گزر کر واجب ترک کیا، اور فقہِ حنفی کے مطابق اس پر دم لازم ہو گیا۔ اس دم کی ادائیگی کے لیے حدودِ حرم میں ایک بکرا، بکری یا دنبہ ذبح کرنا واجب ہوگا، اور اس کا گوشت خود استعمال کرنے کے بجائے حرم کے فقراء و مساکین میں تقسیم کرنا ضروری ہوگا۔
البتہ اگر اس نے جدہ میں احرام باندھنے کے بعد ابھی تک عمرہ یا حج کا کوئی عمل، مثلاً: طواف وغیرہ شروع نہ کیا ہو اور وہ اسی احرام کی حالت میں واپس کسی میقات، (نہ کہ محاذات میقات) جا کر دوبارہ تلبیہ کہے اور وہاں سے احرام کے ساتھ مکہ مکرمہ آئے تو اس صورت میں دم ساقط ہو جائے گا، لیکن اگر طواف شروع کر لیا ہو تو پھر تلافی کی گنجائش باقی نہیں رہتی اور دم بہرصورت لازم رہتا ہے۔
مزید یہ کہ اگر کسی شخص نے میقات سے پہلے ہی احرام کی نیت کرلی ہو، لیکن احرام کی چادریں جدہ ائیرپورٹ پہنچ کر پہنی ہوں تو ایسی صورت میں میقات سے گزرنے کے بعد سے چادریں پہننے تک کے وقت کا اعتبار ہوگا۔ چنانچہ اگر یہ مدت بارہ گھنٹے سے کم ہو تو اس پر صدقہ واجب ہوگا، اور اگر بارہ گھنٹے یا اس سے زیادہ گزر جائیں تو پھر دم لازم آئے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار مع رد المحتار: (581/2، 583، ط: دار الفکر)
إذا أراد دخول مكان من الحل لمجرد المرور إلى مكة؛ فإنه لايحل له إلا محرماً، فلا بد من هذا القيد، وإلا فكل آفاقي أراد دخول مكة، لا بد له من دخول مكان في الحل. على أنه في البحر جعل الشرط قصده الحل من حين خروجه من بيته: أي ليكون سفره لأجله، لا لدخول الحرم، كما يأتي، ولذا قال ابن الشلبي في شرحه ومنلا مسكين: لحاجة له بالبستان لالدخول مكة ... (قوله: ولو عند المجاوزة) الظرف متعلق بقصدها أي ولو كان قصد الحاجة التي هي علة إرادته دخول البستان عند مجاوزة الميقات، أما بعد المجاوزة فلا يعتبر قصد الحاجة؛ لكونه عند المجاوزة كان قاصداً مكة، فلا يسقط الدم ما لم يرجع................ لو أراد دخول مكة عند المجاوزة يلزمه الإحرام وإن أراد دخول البستان؛ لأن دخول مكة لم يبد له، بل هو مقصوده الأصلي، وقد أشار في البحر إلى هذا الإشكال، وأشار إلى جوابه بما تقدم عنه من أنه لا بد أن يكون قصد البستان من حين خروجه من بيته: أي بأن يكون سفره المقصود لأجل البستان، لا لأجل دخوله مكة، كما قدمناه. وأجاب أيضاً في شرح اللباب بقوله: والوجه في الجملة أن يقصد البستان قصداً أولياً، ولا يضره دخول الحرم بعده قصداً ضمنياً أو عارضياً، كما إذا قصد هندي جدة لبيع وشراء أولاً ويكون في خاطره أنه إذا فرغ منه أن يدخل مكة ثانياً، بخلاف من جاء من الهند بقصد الحج أولاً ويقصد دخول جدة تبعاً ولو قصد بيعاً وشراءً. اه".
رد المحتار: (476/2، ط: دار الفكر-بيروت)
”(قوله ولو لم یمر بھا إلخ) کذا فی الفتح.ومفادہ أن وجوب الإحرام بالمحاذاۃ إنما یعتبر عند عدم المرور علی المواقیت أما لو مر علیھا فلا یجوز له مجاوزۃ آخر ما یمر علیه منھا وإن کان یحاذی بعدہ میقاتا آخر وبذلک أجاب صاحب البحر عما أوردہ علیه العلامة ابن حجر الہیثمی الشافعی حین اجتماعه به فی مکة من أنه ینبغی علی مدعاکم أن لا یلزم الشامی والمصری الإحرام من رابغ، بل من خلیص لمحاذاته لآخر المواقیت، وھو قرن المنازل.وأجابه بجواب آخر وھو أن مرادھم المحاذاۃ القریبة، ومحاذاۃ المارین بقرن بعیدۃ لأن بینھم وبینه بعض جبال، لکن نازعه فی النھر بأنه لا فرق بین القریبة والبعیدۃ. “
البحرالرائق: (342/2، ط: دار الكتاب الإسلامي)
”وقد قالوا: ومن کان فی برأ وبحر لا یمر بواحد من هذہ المواقیت المذکورۃ فعلیه أن یحرم إذا حاذی آخرہا ویعرف بالاجتھاد وعلیه أن یجتھد فإذا لم یکن بحیث یحاذی فعلی مرحلتین إلی مکة ولعل مرادھم بالمحاذاۃ المحاذاۃ القریبة من المیقات وإلا فآخر المواقیت باعتبار المحاذاۃ قرن المنازل. ذکرلی بعض اھل العلم من الشافعیة المقیمین بمکة فی الحجة الرابعة للعبدالضعیف أن المحاذاۃ حاصلة فی هذا المیقات فینبغی علی مذہب الحنفیة أن لا یلزم الإحرام من رابغ بل من خلیص القریة المعروفة فإنه حینئذ یکون محاذیا لآخر المواقیت وهو قرن فأجبته بجوابین: الأول أن احرام المصری والشامی لم یکن بالمحاذاۃ وإنما هو بالمرور علی الجحفة وإن لم تکن معروفة فإحرامھم قبلھا احتیاطا والمحاذاۃ إنما تعتبر عند عدم المرور علی المواقیت . الثانی أن مرادھم المحاذاۃ القریبة ومحاذاۃ المارین لقرن بعیدۃ ،لأن بینھم وبینه بعض جبال واللہ أعلم بحقیقة الحال.
النھر الفائق: (62/2، ط: دار الكتب العلمية)
وأقول: فی الثانی ما لا یخفی لأن من لا یمر علی المواقیت یحرم إذا حاذی آخرها قربت المحاذاۃ أو بعدت والحاصل أن الآفاقی إذا قصد دخول مکة وجب علیه الإحرام من آخر المواقیت سواء أراد الحج أو العمرۃ أو القتال أو التجارۃ أو غیر ذلک. “
کذا فی فتوی بنوری تاؤن: فتویٰ نمبر: (144503101170)
کذا فی تبویب فتاویٰ جامعہ دارالعلوم کراچی: (67/1743)
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی