resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: رمیِ جمرات میں غلطی یا ترک کی صورت میں اعادہ یا دم کا شرعی حکم

(42130-No)

سوال: مفتی صاحب! میرے حج کی رمی کے اعتبار سے دو سوالات ہیں، اور یہ دونوں واقعات اسی سال (2026) حج کے دوران پیش آئے ہیں، براہِ کرم ان سوالات کے جوابات عنایت فرما دیں۔
1) ایک شخص نے 10 ذی الحجہ کو جمرۂ کبریٰ کی رمی کے بجائے جمرۂ صغریٰ کی رمی کر لی تو کیا اب اس صورت میں اس شخص پر دم واجب ہوگا یا اس کا اعادہ کرنا ہوگا؟ اور اگر اعادہ کرنا ہوگا تو کب تک اعادہ کر سکتے ہیں؟ نیز اگر اعادہ نہیں کیا تو کیا حکم ہوگا؟
2) ایک خاتون نے 11 ذی الحجہ کو دو شیطانوں کو کنکریاں ماریں اور ایک شیطان کو کنکری نہیں ماری، تو اب اس عورت کے لیے کیا حکم ہوگا؟ کیا اس عورت پر بھی دم واجب ہوگا یا اس کا اعادہ کرنا ہوگا؟ اور اگر اعادہ کرنا ہوگا تو کب تک اعادہ کر سکتے ہیں؟ نیز اگر اعادہ نہیں کیا تو کیا حکم ہوگا؟

جواب: 1] *دس ذی الحجہ کو جمرۂ کبریٰ کے بجائے جمرۂ صغریٰ کی رمی کرنا:*
واضح رہے کہ دس ذی الحجہ کو صرف جمرۂ کبریٰ (جمرۂ عقبہ) کی رمی واجب ہے، اگر کسی شخص نے غلطی سے جمرۂ صغریٰ کی رمی کر لی تو یہ رمی معتبر نہیں ہوگی اور جمرۂ کبریٰ کی رمی اس کے ذمّہ باقی رہے گی، لہٰذا اس پر لازم ہے کہ جمرۂ کبریٰ کی رمی کا اعادہ کرے۔ اگر وہ 11 ذی الحجہ کی صبحِ صادق سے پہلے جمرۂ کبریٰ کی رمی کر لے تو یہ وقتِ ادا کے اندر شمار ہوگی اور اس پر کوئی دم یا صدقہ واجب نہیں ہوگا، البتہ اگر 11 ذی الحجہ کی صبحِ صادق کے بعد اس کی قضا کرے تو رمی ادا ہو جائے گی، لیکن واجب کو اس کے مقررہ وقت سے مؤخر کرنے کی وجہ سے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ایک دم واجب ہوگا، جبکہ صاحبین کے نزدیک ایام رمی میں اعادہ کرلینے کی صورت میں دم واجب نہیں ہوگا اور اگر ایامِ رمی (13 ذی الحجہ کے غروبِ آفتاب تک دن ) گزر جائیں اور اس نے جمرۂ کبریٰ کی رمی کا اعادہ نہیں کیا ہو تو اب رمی نہیں ہوسکتی، اب اس صورت میں واجب کے مکمل ترک کی وجہ سے فقہاء احناف کے نزدیک ایک دم واجب ہوگا۔
2] *گیارہ ذی الحجہ کو ایک جمرہ کی رمی چھوڑ دینا:*
گیارہ ذی الحجہ کو تینوں جمرات کی رمی واجب ہے، اگر کسی خاتون نے دو جمرات کی رمی کی اور ایک جمرہ کی رمی نہیں کی تو اس پر لازم ہے کہ ایامِ رمی ختم ہونے سے پہلے اس چھوٹے ہوئے جمرہ کی رمی کر لے۔ اگر اس نے ایام رمی میں اس کی قضا کر لی تو رمی درست ہو جائے گی، تاہم اگر یہ قضا اپنے مقررہ وقت کے بعد کی گئی ہو تو ہر چھوڑی گئی کنکری کے بدلے ایک صدقہ واجب ہوگا۔ اور اگر ایامِ رمی (13 ذی الحجہ کے غروبِ آفتاب تک) گزر جانے کے باوجود اس نے اس جمرہ کی رمی بالکل نہ کی تو چونکہ ترک کی گئی سات کنکریاں اس دن کی کل اکیس کنکریوں کی اکثریت نہیں بنتیں، اس لیے اس پر دم واجب نہیں ہوگا، بلکہ ہر چھوڑی گئی کنکری کے بدلے ایک صدقہ واجب ہوگا، یعنی مجموعی طور پر سات صدقات ادا کرنا لازم ہوں گے۔ صدقہ سے مراد صدقۂ فطر کے برابر مقدار یا اس کی مالیت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

*فتح القدير للكمال ابن الهمام: (3/ 61، ط: دار الفكر)*
(وإن ترك رمي جمرة العقبة في يوم النحر فعليه دم) لأنه كل وظيفة هذا اليوم رميا وكذا إذا ترك الأكثر منها

*فتح القدير للكمال ابن الهمام: (3/ 61، ط: دار الفكر)*
(ومن ترك رمي إحدى الجمار الثلاث فعليه الصدقة) لأن الكل في هذا اليوم نسك واحد فكان المتروك أقل إلا أن يكون المتروك أكثر من النصف فحينئذ يلزمه الدم لوجود ترك الأكثر (وإن ترك رمي جمرة العقبة في يوم النحر فعليه دم) لأنه كل وظيفة هذا اليوم رميا

*بدائع الصنائع: (2/139 نعیمیۃ دیوبند)*
فإن ترك رمي أحد الجمار الثلاث من اليوم الثاني فعليه صدقة؛ لأنه ترك أقل، وظيفة اليوم، اھ ۔

*بدائع الصنائع: [وقت الرمي، ۳؍۳۲۶ نعیمیۃ دیوبند]*
وإن کان ترک وظیفۃ یوم واحد بانفرادہ یوجب دما واحدا.

*الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 554 دار الفكر-بيروت)*
أما لو ترك أقل من ذلك أو أخره فعليه لكل حصاة صدقة إلا أن يبلغ دما فينقص ما شاء لباب

*فتح القدير للكمال ابن الهمام: (3/ 60)*
واعلم أن إطلاق إلزام الدم والصدقة بترك الرمي على الاتفاق فيما إذا لم يقضه، أما إن قضى رمي اليوم الأول في الثاني أو الثالث أو الثاني في الثالث، فالإيجاب على قول أبي حنيفة - رحمه الله - لا على قولهما؛ لأن تأخير النسك وتقديمه غير موجب عندهما شيئا.

*المبسوط للسرخسي: (4/ 65، ط: دار المعرفة - بيروت)*
وإن ترك الرمي كله في سائر الأيام إلى آخر أيام الرمي رماها على التأليف؛ لأن وقت الرمي باق فعليه أن يتدارك المتروك ما بقي وقته كالأضحية إذا أخرها إلى آخر أيام النحر، وعليه دم للتأخير في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -، ولا دم عليه في قولهما فإن تركها حتى غابت الشمس من آخر أيام الرمي سقط عنه الرمي بفوات الوقت؛ لأن معنى القربة في الرمي غير معقول، وإنما عرفناه قربة بفعل رسول الله - صلى الله عليه وسلم - هو إنما رمى في هذه الأيام فلا يكون الرمي قربة بعد مضي وقتها كما لا يكون إراقة الدم قربة بعد مضي أيام النحر، وإذا لم يكن قربة كان عبثا فلا يشتغل به، وعليه دم واحد عندهم جميعا؛ لأن الرمي كله نسك واحد، وهو واجب فتركه يوجب الجبر بالدم كما هو مذهبنا في ترك السعي بين الصفا والمروة٫

*جواہر الفقہ:(رمی کے متعلق ضروری مسائل،142/4،ط: دارالعلوم کراچی)*

*کتاب المسائل: (349/3)*

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage) & Umrah