resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بغیر عذر وہیل چیئر پر طواف و سعی کرنے کا شرعی حکم

(45170-No)

سوال: مفتی صاحب! میں نے گزشتہ سال عمرہ کیا تھا، دورانِ عمرہ میں نے طواف اور سعی بغیر کسی شرعی عذر کے سواری پر کر لی تھی۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ اگر اس کے بعد میں نے ایک یا زائد عمرے ادا کیے ہوں یا بغیر کسی نیت کے نفلی طواف کیے ہوں تو کیا وہ طواف و سعی سواری پر کیے گئے طواف و سعی کی قضاء کے قائم مقام ہو جائیں گے؟ نیز کیا اس صورت میں مجھ پر لازم آنے والا دم ساقط ہو جائے گا یا بدستور واجب رہے گا؟ میں نے نفلی طواف تو کیے تھے لیکن نفلی سعی نہیں کی تھی۔

جواب: جو شخص پیدل چلنے کی استطاعت رکھتا ہو، اس کے لیے عمرے کا طواف اور سعی پیدل ادا کرنا واجب ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص بغیر کسی معتبر شرعی عذر، جیسے شدید بیماری، معذوری یا غیر معمولی کمزوری کے وہیل چیئر یا کسی دوسری سواری پر طواف اور سعی کرے تو واجب ترک ہونے کی وجہ سے اس پر دم لازم آتا ہے۔ بعد میں کیے گئے نفلی طواف یا نئے عمرے اس نقص کی تلافی نہیں کرتے، کیونکہ بعد کے عمرے اپنی حیثیت میں مستقل عبادات ہیں اور وہ قضاء کی نیت سے نہیں کیے گئے تھے، لہٰذا ان کے اعمال سابقہ عمرے کے واجبات میں ہونے والی کوتاہی کا ازالہ نہیں کرتے، نیز بعد میں کیا گیا نفلی طواف بھی سابق واجب طواف کے اعادے کے قائم مقام نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس میں بھی قضاء کی نیت نہیں تھی، اس لیے پہلے عمرے میں سواری پر کیے گئے طواف و سعی کا حکم اپنی جگہ برقرار رہتا ہے، خصوصاً جبکہ سعی کا اعادہ بھی نہ کیا گیا ہو۔
اسی طرح واجب ہونے والا دم بھی ساقط نہیں ہوتا، کیونکہ فقہائے کرام کے مطابق اگر کوئی شخص مکہ مکرمہ میں موجود ہو تو ناقص طواف یا سعی کا اعادہ پیدل کر کے دم ساقط کر سکتا ہے، لیکن مکہ مکرمہ سے واپس آنے کے بعد اعادے کا موقع گزر جانے پر دم لازم اور واجب ہو جاتا ہے۔ چونکہ طواف میں پیدل چلنا ایک مستقل واجب ہے اور سعی میں پیدل چلنا دوسرا مستقل واجب ہے، اس لیے بغیر عذر سواری پر طواف کرنے کی وجہ سے ایک دم اور بغیر عذر سواری پر سعی کرنے کی وجہ سے دوسرا دم یعنی مجموعی طور پر دو دم واجب ہوں گے۔
دم سے مراد ایک بکری، دنبہ یا بھیڑ (یا بڑے جانور میں ساتواں حصہ) ہے، اور اس کا جانور حدودِ حرم میں ذبح کرنا ضروری ہے، لہٰذا اگر آپ اس وقت مکہ مکرمہ میں موجود نہیں ہیں تو کسی قابلِ اعتماد شخص، رشتہ دار یا مستند ادارے کو اپنی طرف سے وکیل بنا کر حدودِ حرم میں دو دم ذبح کرا سکتے ہیں، جانور ذبح ہوتے ہی آپ کے ذمّے سے یہ واجب ادا ہو جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

*الشامیة: (کتاب الحج ،468/2، ایچ ایم سعید)*
"(والبداءة بالطواف من الحجر الأسود) على الأشبه لمواظبته - عليه الصلاة والسلام - وقيل فرض وقيل سنة (والتيامن فيه) أي في الطواف في الأصح (والمشي فيه لمن ليس له عذر) يمنعه منه، ولو نذر طوافا زحفا........(وبداءة السعي بين الصفا والمروة من الصفا) ولو بدأ بالمروة لا يعتد بالشوط الأول في الأصح (والمشي فيه) في السعي (لمن ليس له عذر)
(قوله والمشي فيه إلخ) فلو تركه بلا عذر أعاده وإلا فعليه دم لأن المشي واجب عندنا على هذا نص المشايخ وهو كلام محمد، وما في الخانية من أنه أفضل تساهل أو محمول على النافلة لا يقال بل ينبغي في النافلة أن تجب صدقة لأنه إذا شرع فيه وجب فوجب المشي لأن الفرض أن شروعه لم يكن بصفة المشي، والشروع إنما يوجب ما شرع فيه كذا في الفتح
عندنا على هذا نص المشايخ وهو كلام محمد، وما في الخانية من أنه أفضل تساهل أو محمول على النافلة لا يقال بل ينبغي في النافلة أن تجب صدقة لأنه إذا شرع فيه وجب فوجب المشي لأن الفرض أن شروعه لم يكن بصفة المشي، والشروع إنما يوجب ما شرع فيه كذا في الفتح."

*وفی حاشیہ ارشاد الساری: (باب انواع الاطوفۃ احکامھا ،فصل فی واجبات الطواف،ص نمبر ۲۱۵،المکتبۃ الامدایۃ)*
"(الرابع) اي من الواجبات (المشي فيه) للقادر ففي الفتح المشي واجب و علي هذا نص المشائخ وهو كلام محمد و ما في فتاوي قاضي خان من قوله و الطواف ماشيا افضل تساهل او محمول علي النافلة ...... (فلو طاف) اي طواف يجب المشي فيه( راكبااو محمولا او زحفا) اي علي استه او علي اربعته او علي جنبه او ظهره كالسطيح (بلا عذر فعليه الاعادة) اي ما دام مكة (او الدم) لتركه الواجب (و ان كان) اي تركه (بعذر لا شيئ عليه) كما في سائر الواخبات. (و لو نذر) اي هو قادر علي المشي( ان ىطوف زحفا) و كذا ما في معناه (لزمه) اي الطواف (ماشيا) لالتزامه بالوجه الاكيد بخلاف من شرع زحفا بنية النفل فان المشي في حقه هو الافضل كما تقدم والله اعلم ."

*وفی حاشیۃ ارشاد الساری: (باب السعی بین الصفا والمروۃ ، فصل فی واجبات السعی ، ص نمبر ۲۵۳، المکتبۃ الامدادیۃ)*
"(المشي فيه، فان سعي راكبا او محمولا او زحفا ) اي بحميع انواعه مما لا يطلق عليه ان مشي ( بغير عذر فعليه دم ولو بعذر فلا شيئ عليه ) هذا واضح."

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage) & Umrah