سوال:
مفتی صاحب! ایک عورت مدینہ منورہ سے عمرے کی نیت کے ساتھ احرام باندھ کر مکہ مکرمہ پہنچی، لیکن حالتِ احرام ہی میں اسے حیض آ گیا، جس کی وجہ سے وہ عمرہ ادا کیے بغیر اپنے وطن واپس آگئی۔ وطن واپس آنے کے بعد، چونکہ وہ بدستور حالتِ احرام میں تھی، اس نے احرام کی کئی ممنوعات کا ارتکاب کیا، مثلاً ناخن کاٹے، بال کٹوائے، اور شادی شدہ ہونے کی وجہ سے اپنے شوہر سے ازدواجی تعلق بھی قائم کیا۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
1) اس عورت پر کتنے دم لازم ہوں گے؟
2) نیز اگر اس کا شوہر یا بیٹا عمرہ کے لیے جائے اور اس کی طرف سے عمرے کی قضا کی نیت کر لے، تو کیا اس کی طرف سے عمرے کی قضا ادا ہو جائے گی؟
جواب: (1)اگر اس عورت نے احرام کی ان تمام ممنوعات (ناخن کاٹنا، بال کٹوانا اور ازدواجی تعلق قائم کرنا) کا ارتکاب لاعلمی میں یہ سمجھ کر کیا ہو کہ وہ وطن واپس آکر احرام سے نکل چکی ہے (یعنی حلال ہو گئی ہے) تو ایسی صورت میں اس پر احرام کی ان تمام ممنوعات کی خلاف ورزی کا صرف ایک ہی دم لازم ہوگا، لیکن اگر اس نے یہ جانتے ہوئے کہ وہ تاحال حالتِ احرام میں ہے، ان محرمات کا ارتکاب کیا ہے تو پھر ہر ممنوع کام (جنایت) کی وجہ سے اس پر الگ الگ دم لازم ہوگا۔
(2)اس عورت کے شوہر یا بیٹے کا اس کی طرف سے عمرے کی قضا کر لینا کافی نہیں ہے، بلکہ احرام سے مکمل طور پر حلال ہونے کے لیے اس عورت پر لازم ہے کہ وہ خود حرم جا کر اپنا عمرہ ادا کرے۔ جب تک یہ عورت خود سفر کرنے پر قادر ہے، معذور یا بیمار نہیں ہے، اور اسے جانے میں کوئی مستقل رکاوٹ (جیسے ویزہ نہ ملنا، رقم کا انتظام نہ ہونا، یا حکومتی پابندی وغیرہ) درپیش نہیں ہے، اس پر خود جا کر عمرہ کرنا ہی لازم ہوگا، البتہ اگر اسے مذکورہ بالا اعذار میں سے کوئی عذر لاحق ہو گیا ہو جس کی وجہ سے اس کا خود جانا ناممکن نہ ہو تو وہ شرعاً "مُحْصَرة" (عمرہ سے روکی گئی عورت) کے حکم میں ہوگی۔ اس صورت میں وہ اپنا دم حدودِ حرم میں ذبح کروائے گی، تب ہی وہ اس احرام کی پابندیوں سے حلال ہو سکے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*ردّ المحتار: (کتاب الحج، باب الجنايات في الحج، 553/2، ط: سعید)*
واعلم أن المحرم إذا نوى رفض الإحرام فجعل يصنع ما يصنعه الحلال من لبس الثياب والتطيب والحلق والجماع وقتل الصيد فإنه لا يخرج بذلك من الإحرام، وعليه أن يعود كما كان محرما،ويجب دم واحد لجميع ما ارتكب ولو كل المحظورات، وإنما يتعدد الجزاء بتعدد الجنايات إذا لم ينو الرفض، ثم نية الرفض إنما تعتبر ممن زعم أنه خرج منه بهذا القصد لجهله مسألة عدم الخروج، وأما من علم أنه لا يخرج منه بهذا القصد فإنها لا تعتبر منه.
*البحر الرائق: (کتاب الحج، 17/3، ط: دار الکتاب الاسلامی)*
اﻋﻠﻢ ﺃﻥ اﻟﻤﺤﺮﻡ ﺇﺫا ﻧﻮﻯ ﺭﻓﺾ اﻹﺣﺮاﻡ ﻓﺠﻌﻞ ﻳﺼﻨﻊ ﻣﺎ ﻳﺼﻨﻌﻪ اﻟﺤﻼﻝ ﻣﻦ ﻟﺒﺲ اﻟﺜﻴﺎﺏ ﻭاﻟﺘﻄﻴﺐ ﻭاﻟﺤﻠﻖ ﻭاﻟﺠﻤﺎﻉ، ﻭﻗﺘﻞ اﻟﺼﻴﺪ ﻓﺈﻧﻪ ﻻ ﻳﺨﺮﺝ ﺑﺬﻟﻚ ﻣﻦ اﻹﺣﺮاﻡ، ﻭﻋﻠﻴﻪ ﺃﻥ ﻳﻌﻮﺩ ﻛﻤﺎ ﻛﺎﻥ ﻣﺤﺮﻣﺎ ﻭﻳﺠﺐ ﺩﻡ ﻭاﺣﺪ ﻟﺠﻤﻴﻊ ﻣﺎ اﺭﺗﻜﺐ، ﻭﻟﻮ ﻛﻞ اﻟﻤﺤﻈﻮﺭاﺕ، ﻭﺇﻧﻤﺎ ﻳﺘﻌﺪﺩ اﻟﺠﺰاء ﺑﺘﻌﺪﺩ اﻟﺠﻨﺎﻳﺎﺕ ﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﻨﻮ اﻟﺮﻓﺾ ﺛﻢ ﻧﻴﺔ اﻟﺮﻓﺾ ﺇﻧﻤﺎ ﺗﻌﺘﺒﺮ ﻣﻤﻦ ﺯﻋﻢ ﺃﻧﻪ ﺧﺮﺝ ﻣﻨﻪ ﺑﻬﺬا اﻟﻘﺼﺪ ﻟﺠﻬﻠﻪ ﻣﺴﺄﻟﺔ ﻋﺪﻡ اﻟﺨﺮﻭﺝ، ﻭﺃﻣﺎ ﻣﻦ ﻋﻠﻢ ﺃﻧﻪ ﻻ ﻳﺨﺮﺝ ﻣﻨﻪ ﺑﻬﺬا اﻟﻘﺼﺪ ﻓﺈﻧﻬﺎ ﻻ ﺗﻌﺘﺒﺮ ﻣﻨﻪ.
*غنية الناسك جدید: (باب الجنايات، ص: 378، 379)*
فإن المحرم اذا نوى رفض الإحرام فجعل يصنع ما يصنع الحلال من لبس الثياب والتطيب والحلق والجماع وقتل الصيد فعليه دم واحد بجميع ما ارتكب ولو فعل كل المحظورات ولا يخرج بذلك القصد من الإحرام وعليه أن يعود كما كان محرماً.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی