resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: حجِ تمتع میں عمرہ کی ادائیگی کے بعد مردوں کے لیے سلے ہوئے کپڑے اور عورت کا چہرہ پر نقاب پہننا

(42114-No)

سوال: حج کے بارے میں ایک سوال ہے:
ہم یہاں (سعودیہ عرب میں) حج کے لیے موجود ہیں، میری اہلیہ نقاب کرتی ہیں، لیکن عمرہ کے لیے انہیں نقاب اتارنا پڑا۔ ہم حجِ تمتع کر رہے ہیں، اب وہ اس بارے میں پریشان ہیں کہ آیا دوبارہ نقاب پہن لیں یا حج مکمل ہونے تک انتظار کریں؟

جواب: واضح رہے کہ مردوں کے لیے حجِ تمتّع میں عمرہ کے افعال مکمل کرکے حلق یا قصر کروانے کے بعد احرام کی پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں، چنانچہ مرد کے لیےعام سلے ہوئے کپڑے پہننا، خوشبو استعمال کرنا اور جن چیزوں سے احرام کی حالت میں فائدہ اٹھانا منع تھا، وہ سب جائز ہوجاتا ہے۔ اسی طرح عورت کے لیے بھی اس وقت چہرہ چھپانے کی ممانعت باقی نہیں رہتی۔
البتہ جب حج کے لیے دوبارہ احرام باندھا جائے اور تلبیہ پڑھ کر احرام کی حالت شروع ہوجائے تو احرام کی پابندیاں دوبارہ نافذ ہوجاتی ہیں، مرد کے لیے سلے ہوئے کپڑے پہننا یا خوشبو لگانا اور بہت سی حلال چیزوں سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں رہتا اور عورت کے لیے بھی چہرے پر نقاب پہننا ممنوع ہوجاتا ہے۔
احرام کی حالت میں عورت چہرے کا پردہ کس طرح کرے گی؟ اس کی تفصیل کے لیے درج ذیل فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:
https://alikhlasonline.com/detail.aspx?id=8125

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*الدر المختار مع رد المحتار: (535/2، ط: دار الفکر)*
"باب التمتع (هو) لغةً من المتاع والمتعة، وشرعاً: *(أن يفعل العمرة أو أكثر أشواطها في أشهر الحج)، فلو طاف الأقل في رمضان مثلاً ثم طاف الباقي في شوال، ثم حج من عامه كان متمتعاً، فتح، قال المصنف: فلتغير النسخ إلى هذا التعريف (ويطوف ويسعى) كما مر (ويحلق أو يقصر) إن شاء (ويقطع التلبية في أول طوافه) للعمرة وأقام بمكة حلالاً (ثم يحرم للحج)*

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage) & Umrah