سوال:
مفتی صاحب! سر پر کیپ کی طرح ایک چھتری ہوتی ہے، جس کو سر پر رکھ لینے سے دھوپ سے بچ سکتے ہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا مرد یا عورت احرام کی حالت میں اس کو پہن سکتے ہیں؟
جواب: واضح رہے کہ حدیث کی رو سے حالتِ اِحرام میں مردوں کے لیے سر کا ڈھانپنا ممنوع ہے، اس لیے مُحرم مرد کو ایسی کوئی بھی چیز نہیں پہننی چاہیے جس سے اس کے سر کا اکثر حصہ یا چوتھائی حصہ براہِ راست (اس پہننی ہوئی چیز سے) ڈھانپنا لازم آتا ہو۔
سوال میں آپ نے جس چھتری کا ذکر کیا ہے یہ سر سے اُٹھی ہوئی ہوتی ہے، البتہ اس چھتری کے پہننے کے لیے جو فریم ہوتا ہے وہ سر پر پہنا جاتا ہے اور اسی کی مدد سے چھتری اُٹھی رہتی ہے، اب اگر یہ فریم سر کے چوتھائی سے کم حصہ کو ڈھانپ لے تو پھر حالتِ احرام میں بارہ گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت پہنے رکھنے سے مُحرم پر صدقہ دینا لازم ہوگا، اور اگر بارہ گھنٹے سے کم پہنے تو اس سے کچھ بھی لازم نہیں ہوگا۔
اور اگر یہ فریم چوتھائی سر یا اس سے زیادہ حصہ کو ڈھانپتا ہو تو اس صورت میں بارہ گھنٹے یا اس سے زیادہ پہننے سے محرم پر دم لازم آئے گا اور اس سے کم وقت کے لیے پہننے سے صدقہ دینا لازم ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحیح البخاری: (559/2، ط: دار ابن کثیر الیمامة)
عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُولَ اﷲِ! مَا یَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّیَابِ؟ قَالَ رَسُولُ اﷲِ: لَا یَلْبَسُ الْقُمُصَ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا السَّرَاوِیلَاتِ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَحَدٌ لَا یَجِدُ نَعْلَیْنِ فَلْیَلْبَسْ خُفَّیْنِ وَلْیَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّیَابِ شَیْئًا مَسَّہُ الزَّعْفَرَانُ أَوْ وَرْسٌ.
الهندية: (242/1، ط: دار الفكر)
ولو غطى المحرم رأسه أو وجهه يوما فعليه دم، وإن كان أقل من ذلك فعليه صدقة كذا في الخلاصة وكذا إذا غطاه ليلة كاملة سواء غطاه عامدا أو ناسيا أو نائما كذا في السراج الوهاج.
وفیه ایضاً: (224/1، ط: دار الفکر)
وكذا لو دخل تحت ستر الكعبة حتى غطاه والستر لا يصيب رأسه ولا وجهه لا بأس به ،فإن كان يصيب رأسه أو وجهه كره ذلك؛ لمكان التغطية، كذا في المحيط۔
رد المحتار: 287/2، ط: سعید)
(قوله كله أو بعضه) لكن في تغطية كل الوجه أو الرأس يوما أو ليلة دم والربع منهما كالكل وفي الأقل من يوم أو من الربع صدقة كما في اللباب وأطلقه فشمل المرأة لما في البحر عن غاية البيان من أنها لا تغطي وجهها إجماعا۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی