resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: اللہ کی رضاء اور قضاء میں فرق

(42023-No)

سوال: مفتی صاحب! اللہ کی رضا اور قضاء میں کیا فرق ہے ؟

جواب: واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کی “رضا” سے مراد اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے اعمال اور افعال پر راضی ہونا ہے، یعنی بندوں کا شرعی حکم کے مطابق ایسے کام کرنا جنہیں وہ پسند فرماتا ہے اور اس کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے اور جو اعمال شریعتِ مطہّرہ کے مطابق ہوں، وہ اللہ تعالیٰ کی رضا والے اعمال کہلاتے ہیں۔ مثلاً: نماز ادا کرنا، سچ بولنا، والدین کی خدمت کرنا، غریبوں اور لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا وغیرہ۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں کئی جگہ نیک اعمال کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، تاکہ بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی حاصل کرسکے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ أَكْبَرُ۔ ترجمہ:"اور اللہ کی طرف سے خوشنودی تو سب سے بڑی چیز ہے۔" (سورۃ التوبہ: 72)
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کے ذکر کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔
*قضاء و تقدیر*
نیز "قضاء و تقدیر" کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علمِ کامل کے مطابق قیامت تک پیش آنے والے تمام امور کو پہلے ہی مقرر فرما دیا ہے، اور اسی کو “تقدیر” کہا جاتا ہے، پھر ان مقدّر کردہ امور کا اپنے مقرّرہ وقت پر واقع ہونا “قضاء” کہلاتا ہے۔ چنانچہ انسان کی پیدائش، موت، صحّت، بیماری، کامیابی، ناکامی، اچھائی یا برائی اور دیگر پیش آنے والے تمام حالات اللہ تعالیٰ کے علمِ کامل اور تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں۔
البتہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل اور اختیار عطا فرمایا ہے تاکہ وہ نیکی اور برائی میں سے جس راستے کو چاہے اختیار کرے، لہٰذا اگر کوئی شخص گناہ کرتا ہے تو وہ اپنے اختیار اور ارادے سے کرتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی جبر نہیں ہوتا، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے علم کامل کی بناء پر پہلے ہی جانتے ہوتے ہیں کہ بندہ کیا عمل کرے گا۔
اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک استاذ امتحان میں کثیرالانتخابی (MCQS ) سوالات دیتا ہے، جن میں سے صرف ایک جواب درست اور باقی غلط ہوتے ہیں۔ اب طالبِ علم کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ صحیح جواب منتخب کرے یا غلط جواب کا انتخاب کرے، لہذا اگر وہ طالب علم غلط جواب منتخب کرلے تو اس کا ذمّہ دار استاذ کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا، کیونکہ استاذ نے صحیح اور غلط میں انتخاب کا اختیار دے دیا تھا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں آزمائش کے لیے بھیجا ہے اور اسے نیکی و برائی میں اختیار عطا فرمایا ہے، اب بندہ اگر اللہ تعالیٰ کی رضا والے اعمال اختیار کرے گا تو آخرت میں کامیاب ہوگا، اور اگر اس نے شیطان کے راستے کو اختیار کیا تو جہنم کا مستحق ہوگا ۔
*رضاء و قضاء میں فرق*
اس تفصیل کے بعد یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی “رضا” اور “قضاء” میں بنیادی فرق یہ ہے کہ دنیا میں ہونے والی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضاء اور تقدیر کے مطابق ہوتی ہے، لیکن وہ بندوں کے ہر ہر فعل سے راضی (خوش) نہیں ہوتا، مثال کے طور پر چوری، ظلم یا گناہ ہونا اللہ تعالیٰ کی قضاء و تقدیر کے مطابق ہوتا ہے، کیونکہ وہ اللہ کے علم اور تکوینی نظام کے تحت وقوع پذیر ہوتا ہے، لیکن چونکہ یہ اعمال اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہیں، اس لیے ان میں اللہ کی رضا شامل نہیں ہوتی۔
خلاصہ کلام:
ثابت ہوا کہ بندے کے تمام کام تقدیر و قضاء کے مطابق ہوتے ہیں، مگر اللہ پاک کی اپنے بندوں کے ہر کام پر من کلّ الوجوہ رضاء (خوش) ہونا کوئی ضروری نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الکریم:(سورۃ القمر، الآية:49)*
اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ(49)

*وقوله تعالى:(سورة الأنعام،الآية:59)*
وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَؕ-وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِؕ-وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ

*وقوله تعالى:(سورة التوبة،الآية:72)*
وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهَارُ خَالِدِيْنَ فِيْهَا وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِىْ جَنَّاتِ عَدْنٍ ۚ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ (72)

*شرح العقائد النسفية:(أفعال العباد كلها بإرادته،ص:284،ط: البشری )*
*وقضيته* أي قضائه، فهو عبارة عن الفعل مع زياده احكام. لا يقال: لو كان الكفر بقضاء الله تعالى لوجب الرضى به، لأن الرضىٰ بالقضاء واجب، واللازم باطل، لان الرضاء بالكفر كفر، لأنا نقول: الكفر مقضي لا قضاء، والرضى إنما يجب بالقضاء دون المقضي.
*وتقديره* وهو تحديد كل مخلوق بحده الذي يوجد من حسن وقبح ونفع وضرر، وما يحويه من زمان أو مكان، وما يترتب عليه من ثواب وعقاب.
والمقصود تعميم إرادة الله تعالى وقدرته، لما مرّ من أن الكل بخلق الله تعالى، وهو يستدعي القدرة والإرادة، لعدم الإكراه والإجبار.

*فتاویٰ دارالعلوم کراچی(امداد السائلین):(فصل فی التقدیر،275/1،ط:ادارۃ المعارف کراچی)*

*عقائد الاسلام از حضرت مولانا ادریس کاندھلوی صاحب:(عقیدہ دہم،قضاء و قدر،ص:302،ط:ادارۃ المعارف کراچی )*

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs