سوال:
میری ایک دوست نے مجھ سے اپنے ایک گناہ کے بارے میں بات کی، کیونکہ اس کے پاس بات کرنے کے لیے کوئی اور نہیں تھا۔ اسے تسلی دینے کے لیے میں نے بھی اپنا وہی گناہ اس کے سامنے بیان کر دیا۔ وہ ایک اچھی دوست ہے، لیکن وہ میری ذاتی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں جانتی، مثلاً میں کہاں رہتی ہوں وغیرہ۔ اس کے باوجود ہم اچھی دوست ہیں۔
اس کے بعد مجھے بہت زیادہ گناہ کا احساس ہونے لگا کہ میں نے اسے یہ کیوں بتایا۔ مجھے لگنے لگا کہ یہ ایک بڑا گناہ ہے اور اللہ مجھے معاف نہیں کرے گا۔ پھر یہ خیال بھی آیا کہ اگر وہ یہ بات کسی اور کو بتا دے تو کیا ہوگا؟
اس سے پہلے کہ میں اس کی بات سنتی، میں ہر چیز سے وقفہ لینے اور اپنی ذات پر توجہ دینے والی تھی، مگر اب میں اسی سوچ میں پھنس گئی ہوں۔ میں نے معافی مانگنے کے لیے دو رکعت نماز بھی پڑھی ہے۔ میں کوئی بہت زیادہ مذہبی انسان نہیں ہوں، لیکن میں بہتر بننے کی کوشش کر رہی ہوں۔
اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟میں زیادہ سوچنا (Overthinking) روک نہیں پا رہی۔ براہِ کرم میری رہنمائی کریں۔
جواب: واضح رہے کہ بلا ضرورت اپنے گناہوں کو دوسروں کے سامنے بیان کرنا شرعاً ناپسندیدہ عمل ہے، اور حدیثِ مبارکہ میں اس پر سخت وعید آئی ہے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: "میری پوری امّت کو معاف کیا جا سکتا ہے، سوائے ان لوگوں کے جو اپنے گناہوں کو کھلم کھلا ظاہر کرتے ہیں۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ کوئی شخص رات کو گناہ کرے، اللہ تعالیٰ اس پر پردہ ڈال دے، لیکن وہ صبح خود ہی لوگوں کو بتانے لگے کہ اس نے کیا کیا، یوں وہ اللہ کے ڈالے ہوئے پردے کو خود ہٹا دیتا ہے۔" (صحيح البخاري: حدیث نمبر: 6070)
لہٰذا آپ کے لیے اپنی دوست کو اپنا گناہ بتانا درست نہیں تھا، لیکن چونکہ یہ غلطی ہو چکی ہے، اس لیے آپ کو چاہیے کہ سچّے دل سے توبہ اور استغفار کریں؛ کیونکہ جب بندہ اخلاص کے ساتھ توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔ چنانچہ آپ ندامت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور آئندہ کے لیے اس گناہ سے بچنے کی پوری کوشش کریں۔
مزید یہ کہ بے جا وسوسوں اور فضول سوچوں میں پڑنے سے بھی اجتناب کریں، کیونکہ یہ وساوس شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں، اور وہ انہی وہموں کے ذریعے انسان کو پریشان کرکے اس کی عبادات اور پاکیزگی میں خلل ڈالنا چاہتا ہے۔ اس لیے ایسے خیالات سے گھبرانے کے بجائے انہیں نظر انداز کریں، کیونکہ ان کا سب سے مؤثّر علاج یہی ہے کہ ان کی طرف بالکل توجّہ نہ دی جائے، اور نیکی کی طرف بڑھتے رہیں؛ یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی ہر سچی کوشش کو قبول فرماتے ہیں، آپ کی لغزشوں کو معاف کرتے ہیں اور آپ کو مزید بہتری کی توفیق عطا فرماتے ہیں، لہٰذا امید اور حوصلے کے ساتھ اپنے اصلاحِ حال کا سفر جاری رکھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحيح البخاري: (2/ 1729،رقم الحدیث:6070،ط:البشری)
حدثنا مسدد، حدثنا أبو عوانة، عن قتادة، عن صفوان بن محرز، أن رجلا سأل ابن عمر: كيف سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في النجوى؟ قال: "يدنو أحدكم من ربه حتى يضع كنفه عليه فيقول: عملت كذا وكذا؟ فيقول: نعم، ويقول: عملت كذا وكذا؟ فيقول: نعم، فيقرره، ثم يقول: إني سترت عليك في الدنيا، فأنا أغفرها لك اليوم".
سنن ابن ماجة: (ص: 853،رقم الحدیث: 4250،ط: البشریٰ)
حدثنا أحمد بن سعيد الدارمي ، قال : حدثنا محمد بن عبد الله الرقاشي ، قال : حدثنا وهيب بن خالد ، قال : حدثنا معمر ، عن عبد الكريم ، عن أبي عبيدة بن عبد الله ، عن أبيه ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "التائب من الذنب ، كمن لا ذنب له".
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی