resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ساقط شدہ حمل کا شرعی حکم اور آخرت کے احوال

(39782-No)

سوال: مفتی صاحب! دو تین مہینے کا حمل ضائع ہو جائے تو کیا قیامت کے دن اس حمل کو شکل و صورت دی جائے گی اور کیا یہ سفارش بھی کرے گا؟ براہ کرم رہنمائی فرمادیں؟

جواب: اس مسئلے کا مدار "استبانتِ خلق" (انسانی اعضاء کے ظاہر ہونے یا نہ ہونے) پر ہے۔ دو سے تین مہینے (یعنی 60 سے 90 دن) کے حمل کے حوالے سے شرعی طور پر دو صورتیں ممکن ہیں:
پہلی صورت (اعضاء ظاہر ہو چکے ہوں):
اگر دو سے تین مہینے کے حمل میں بچے کے اعضاء جیسے ہاتھ، پاؤں، انگلیاں یا دیگر خدوخال ظاہر ہو چکے ہوں تو شریعت میں اسے ایک درجہ تک انسانی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے۔ ایسا سقط (ضائع ہونے والا حمل) قیامت کے دن زندہ کیا جائے گا، اسے مکمل صورت دی جائے گی، اور وہ اپنے والدین کے لیے شفاعت کا ذریعہ بنے گا، بشرطیکہ والدین نے صبر کیا ہو اور ثواب کی نیت رکھی ہو۔
دوسری صورت (اعضاء ظاہر نہ ہوئے ہوں):
اگر حمل اس مرحلے تک نہ پہنچا ہو کہ اس میں انسانی اعضاء نمایاں ہوں بلکہ وہ صرف علقہ (خون کا لوتھڑے) یا مضغہ (گوشت کا لوتھڑے) کی شکل میں ہو تو اس پر مکمل انسانی احکام لاگو نہیں ہوتے۔ ایسی صورت میں وہ قیامت کے دن شفاعت کرنے والوں میں شامل نہیں ہوگا، تاہم والدین کو اس تکلیف پر عظیم اجر، گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی حاصل ہوگی۔
خلاصہ:
دو سے تین مہینے کے حمل میں عموماً اعضاء بننا شروع ہو جاتے ہیں، اس لیے اگر اعضاء ظاہر ہو چکے ہوں تو بچہ ان شاء اللہ شفاعت کرے گا، ورنہ والدین کے لیے صبر کی بنا پر اجر و ثواب کا عظیم ذخیرہ بنے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مسند أحمد مخرجا: (36/ 410، رقم الحدیث: 22090)
عن معاذ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما من مسلمين يتوفى لهما ثلاثة إلا أدخلهما الله الجنة بفضل رحمته إياهما» . فقالوا: يا رسول الله أو اثنان؟ قال: «أو اثنان» . قالوا: أو واحد؟ قال: «أو واحد» . ثم قال: «والذي نفسي بيده إن السقط ليجر أمه بسرره إلى الجنة إذا احتسبته»

مصنف ابن أبي شيبة: (3/ 37، رقم الحدیث: 11887)
عن علي، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن السقط ليراغم ربه إذا دخل أبواه النار حتى يقال أيها السقط المراغم ربه ارفع، فإني أدخلت أبويك الجنة» قال: «فيجرهما بسرره حتى يدخلهما الجنة»

مصنف ابن أبي شيبة: (4/ 198، رقم الحدیث: 19275)
عن عامر قال: «السقط بمنزلة الولد التام»

عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (8/ 176،دار إحياء التراث العربي - بيروت)
السقط الولد تضعه المرأة ميتا أو لغير تمام.

طرح التثريب في شرح التقريب: (3/ 249،الطبعة المصرية القديمة)
[فائدة هل للسقط حكم الأولاد الثلاثة]
(الثالثة عشرة) هذا الحديث لا يتناول السقط لأنه ليس ولدا لكن ورد ذكر السقط في أحاديث، وفي سنن ابن ماجه من رواية أسماء بنت عابس بن ربيعة عن أبيها عن علي - عليه السلام - مرفوعا «إن السقط ليراغم ربه إذا أدخل أبويه النار فيقال أيها السقط المراغم ربه أدخل أبويك الجنة فيجرهما بسرره حتى يدخلهما الجنة» ، وأسماء هذه لا تعرف قاله صاحب الميزان، وفي سنن ابن ماجه أيضا عن معاذ مرفوعا «، والذي نفسي بيده إن السقط ليجر أمه بسرره إلى الجنة إذا احتسبته» ، وفيه يحيى بن عبيد الله لا يعرف قاله الذهبي أيضا، وفي معجم الطبراني الأوسط عن سهل بن حنيف مرفوعا «تزوجوا فإنى مكاثر بكم الأمم، وإن السقط يظل محبنطئا بباب الجنة يقال له ادخل يقول حتى يدخل أبواي» كذا، وفيه موسى بن عبيدة الربذي ضعيف، وروى ابن حبان في الضعفاء نحوه من حديث بهز بن حكيم عن أبيه عن جده، وفيه فيقال، وأنت، وأبويك قال ابن حبان منكر لا أصل له من حديث بهز.

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (3/ 1204، دار الفكر، بيروت - لبنان)
(والسقط) بتثليث السين، والكسر أشهر ما بدا بعض خلقه، في القاموس: السقط مثلثة: الولد لغير تمام اه. وهو أتم بالمرام في هذا المقام، ويؤيد قوله: (يصلى عليه)

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs