عنوان: بلا عذر تراویح چھوڑنا گناہ ہے (104203-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! اگر کوئی شخص بلا عذر تراویح کی نماز نہ پڑھے، تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا تراویح پڑھنا ضروری ہے؟

جواب: تراویح سنتِ موکدہ ہے، بلا عذر اس کو چھوڑنے کی عادت بنانے والا یا غیر اہم سمجھ کر چھوڑنے والا گناہ گار ہے، خلفاءِ راشدین، صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین اور سلفِ صالحین سے مستقل پابندی کے ساتھ تراویح پڑھنا ثابت ہے، لہذا تراویح کا خوب اہتمام کرنا چاہیے، البتہ اگر کبھی عذر کی وجہ سے چھوٹ جائے، تو اگرچہ گناہ نہیں ہوگا، لیکن بڑی خیر سے محرومی کا باعث ہو گا۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کذا فی الدر مع الرد:

التراویح سنۃ مؤکدۃ لمواظبۃ الخلفاء الراشدین للرجال والنساء إجماعاً ووقتہا بعد صلاۃ العشاء إلی الفجر۔ وقال الشامي: سنۃ مؤکدۃ، صححہ في الہدایۃ وغیرہا وہو المروي عن أبي حنیفۃ، وفي شرح منیۃ المصلي: وحکی غیر واحد الإجماع علی سنیتہا۔

(درمختار مع الشامي ۲؍۴۹۳ زکریا)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 565
bila uzar taraweeh chorna gunah hai

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Taraweeh Prayers

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.