سوال:
مانسہرہ شہر کی مغربی جانب متصل آبادی دو پیٹرول پمپ پر آکر ختم ہو جاتی ہے۔ آخری پیٹرول پمپ سے تقریباً 1.5 کلومیٹر کے فاصلے پر سی پیک سڑک شروع ہوتی ہے۔ یہاں اس مقام پر ایک ٹول پلازہ مانسہرہ انٹر چینج بجلی گریڈ اسٹیشن، پولیس چوکی، بڑی گاڑیوں کے وزن کرنے کے لیے کمپیوٹر کانٹا اور بڑی 22 ویلر گاڑیوں پر سفید پتھر کی لوڈنگ، ان لوڈنگ کا اڈا بھی ہے اور ساتھ ہی ایک آٹا مل ہے جو فی الحال بند ہے اور بڑے بڑے مرغی فارمز بھی ہیں۔
1) پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ مل کے جنوبی جانب تقریباً 300 فٹ کے فاصلے پر نئی پلاٹنگ ہو رہی ہے، جس میں اب تک تقریباً 10 گھر آباد ہو چکے ہیں، اسی محلہ میں ایک مسجد و مدرسہ بھی ہے، اس محلہ کو فناءِ شہر میں شمار کر کے یہاں جمعہ ادا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
2) مذکورہ بالا پٹرول پمپ سے ٹول پلازہ تک جانے والی (1.5 کلومیٹر) سڑک کے دائیں بائیں بھی تقریباً 60/50 مکانات ہیں جن میں مساجد بھی ہیں، ان میں جمعہ کا کیا حکم ہے؟
جواب: واضح رہے کہ فنائے شہر میں جمعہ کا قیام درست ہوتا ہے، اور فنائے شہر سے مراد شہر سے باہر وہ جگہ ہے جس سے شہر والوں کے مصالح اور ضروریات وابستہ ہوں۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیلات سے بظاہر مذکورہ دونوں جگہیں فنائے شہر کا حصہ معلوم ہو رہی ہیں، تاہم یہ مسئلہ چونکہ نمازِ جمعہ کے قیام کے متعلق ہے، اور قیام جمعہ کے متعلق اس طرح کی صورتحال میں متعلقہ جگہ کا مکمل مشاہدہ اور اطمینان بخش آگاہی حاصل کرنے سے پہلے یقینی طور پر رائے قائم کرنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے مناسب یہی ہے کہ مقامی مستند علماء کرام اور مفتیان عظّام سے اس کے متعلق رجوع کیا جائے، اور ان کی طرف سے جو جواب آئے، اسی کے مطابق عمل کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار: (138/2، ط: دار الفکر)
(أو فناؤه) بكسر الفاء (وهو ما) حوله (اتصل به) أو لا كما حرره ابن الكمال وغيره (لأجل مصالحه) كدفن الموتى وركض الخيل.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی