سوال:
مفتی صاحب! خلافتِ راشدہ اور خلافتِ راشدہ موعودہ ایک ہی اصطلاح ہے یا پھر دونوں الگ الگ ہیں؟
جواب: خلافتِ موعوده سے مراد وه خلافت لی جاتی ہے جس کا ذکر اور وعدہ قرآن شریف کی درج ذیل آیت میں کیا گیا ہے:
﴿ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ، وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ، وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًاۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًاۚ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ●﴾ (النور، الآية: ٥٥)
ترجمہ: "تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا۔ (بس) وہ میری عبادت کریں، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور جو لوگ اس کے بعد بھی ناشکری کریں گے تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔"
اس آیتِ مبارکہ میں یہ صراحت تو نہیں کہ اس میں خلافت سے مراد خلفائے راشدینؒ ہی ہیں، تاہم یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں کیے ہوئے وعدہ کا پورا پورا اور دُرُست تر ظُہور حضراتِ خلفائے راشدینؓ کے دور میں ہوا ہے، چنانچہ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت معارف القرآن (441/6) میں لکھتے ہیں:
"اسی طرح یہ آیت حضراتِ خلفائے راشدہ کی خلافت کے حق و صحیح اور مقبول عنداللہ ہونے کی بھی دلیل ہے، کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالی نے جو وعدہ اپنے رسول اور اس کی اُمّت سے فرمایا تھا، اُس کا پورا پورا ظہور انہیں حضرات کے زمانے میں ہوا۔ اگر ان حضرات کی خلافت کو حق وصحیح نہ مانا جائے جیسے روافض کا خیال ہے تو پھر قرآن کا یہ وعدہ ہی کہیں پورا نہیں ہوا۔ اور روافض کا یہ کہنا کہ یہ وعدہ حضرت مہدی کے زمانے میں پورا ہو گا ایک مضحکہ خیز چیز ہے، اس کا حاصل تو یہ ہوا کہ چودہ سو برس تو پوری اُمّت ذلّت و خواری میں رہے گی او قرب قیامت میں جو چند روز کے لئے اُن کو حکومت ملے گی، وہی حکومت اس وعدہ سے مراد ہے معاذ اللہ۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے جن شرائطِ ایمان وعمل صالح کی بنیاد پر کیا تھا، وہ شرائط بھی انہیں حضرات میں سب سے زیادہ کامل و مکمل تھیں اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ بھی پورا پورا انہیں کے عہد میں پورا ہوا، اُن کے بعد نہ ایمان و عمل کا وہ درجہ قائم رہا، نہ خلافت و حکومت کا وہ وقار کبھی قائم ہوا۔"
تاہم یہ واضح رہے کہ اس آیت میں اللہ کے کیے ہوئے وعدہ کو خلفائے راشدینؒ میں منحصر کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے، بلکہ اس وعدہ کے اندر ہر عادل و صالح حکمران و خلیفہ کو اپنے عملِ صالح اور عدل و انصاف کے مطابق اس وعدہ میں سے وافر حصہ ملا ہے۔
دوسری طرف روافض اس خلافتِ موعودہ کی مراد اپنے بارہ اماموں کو قرار دیتے ہیں، جو کہ واضح طور پر غلط ہے، ذیل میں تفسیر معارف القرآن ہی سے ایک پیراگراف اختصار کے ساتھ نقل کیا جاتا ہے، جو اوپر ذکر کردہ بات کی تشریح میں کافی شافی ہے:
"صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میری اُمت کا کام چلتا رہیگا جب تک بارہ خلیفہ رہیں گے۔" ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں اس کو نقل کر کے فرمایا کہ یہ حدیث بارہ خلیفہ عادل اس اُمّت میں ہونے کی خبر دے رہی ہے، جس کا وقوع ضروری ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ سب کے سب مسلسل اور متصل ہی ہوں، بلکہ ہو سکتا ہے کہ کچھ وقفوں کے بعد ہوں۔ ان میں سے چار تو یکے بعد دیگرے ہو چکے جو خلفائے راشدینؒ تھے پھر کچھ وقفہ کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ ہوئے، اُن کے بعد بھی مختلف زمانوں میں ایسے خلیفہ ہوتے رہے اور تاقیامت رہیں گے، آخری خلیفہ حضرت مہدی ہوں گے۔ *روافض نے جن بارہ خلفاء کو متعین کیا ہے اس کی کوئی دلیل حدیث میں نہیں بلکہ ان حضرات میں سے بعض (بلکہ اکثر) تو وہ ہیں جن کا خلافت سے کوئی تعلّق ہی نہیں رہا۔*
۔۔۔۔ *اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ اس پر شاہد ہے کہ مختلف زمانوں اور مختلف ملکوں میں جب اور جہاں کوئی مسلمان عادل اور صالح بادشاہ ہوا ہے، اس کو اپنے عمل وصلاح کے پیمانے پر اس وعدہ الٰہیہ کا حصہ ملا ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا ہے: "اِن حِزْبَ اللهِ هُمَ الْغالبون" يعنی اللہ کی جماعت ہی غالب رہے گی۔*"(معارف القرآن: (441/6)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الكريم: (النور، الآية: ٥٥)*
﴿ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ، وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ، وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًاۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًاۚ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ●﴾
*معارف القرآن: (440/6 441)*
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی