سوال:
مفتی صاحب! کیا بینک میں بزنس اینالسٹ (Business Analyst) کے طور پر کام کرنا جائز ہے؟
جواب: واضح رہے کہ سودی بینک میں ایسی ملازمت جائز نہیں، جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے ہو، مثلاً: سودی مصنوعات کو بیچنا یا تشہیر کرنا، سودی معاملات کی لکھت پڑھت، اس کا حساب کتاب رکھنا، یا سودی معاملات میں براہ راست مدد کرنا ناجائز کام میں معاونت (تعاون علی الاثم) پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کی ذمّہ داریوں (JD) کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے ہے تو ایسی ملازمت کرنا شرعاً درست نہیں ہوگا، اور اگر آپ کی ملازمت کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے نہ ہو تو اس صورت میں بھی سودی بینک میں ملازمت سے اجتناب بہتر ہے۔ تاہم شرعی اصولوں کے مطابق چلنے والے کسی غیر سودی بینک میں یہ ملازمت کی جاسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*
*لقرآن الکریم: (المائدة، الایة: 2)*
وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
*تکملة فتح الملهم: (باب لعن آكل الربا و مؤکله، 619/1، ط: اشرفیة)*
ومن هنا ظهر أن التوظف في البنوك الربویة لایجوز، فإن کان عمل الموظف في البنك ما یعین علی الربا، کالکتابة، أو الحساب، فذلك حرام لوجهین: الأول: إعانة علی المعصیة، والثاني: أخذ الأجرة من المال الحرام
*أحكام المال الحرام للشيخ محمد تقي العثماني: (39)*
أمّا إذا كانت الوظيفةُ ليس لها علاقةٌ مباشرةٌ بالعمليّات الرّبويّة، مثل الحارس أوسائق السيّارة، أو العامل على الهاتف، أو الموظّف المسئول عن صيانة البناء أوالمعدّات أو الكهرباء، أو الموظّف الّذى يتمحّض عملُه فى الخدمات المصرفيّة المُباحة، مثل تحويل المبالغ والصّرف العاجل للعُملات، وإصدار الشّيك المصرفيّ، أو حفظ مستندات الشّحن أو تحويلها من بلد إلى بلد، فلا يحرُم قبولُها إن لم يكن بنيّة الإعانة على العمليّات المحرّمة، وإن كان الاجتنابُ عنها أولى، ولايُحكم فى راتبه بالحُرمة، لما ذكرنا من التّفصيل فى الإعانة والتّسبّب، وفى كون مال البنك مختلطاً بالحلال والحرام. ويجوز التّعاملُ مع مثل هؤلاء الموظّفين هبةً أو بيعاً أو شراءً.
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی