resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: متحدہ عرب امارات(UAE) میں کسی بینک سے اسلامک پرسنل فائنانسگ (Islamic Personal Financing) لینے کا حکم

(42144-No)

سوال: السلام علیکم ،مفتی صاحب! میں اس وقت متحدہ عرب امارات (UAE) میں مقیم ہوں۔ یہاں ایک بینک Commodity Murabaha System کے تحت Islamic Personal Finance فراہم کر رہا ہے، اس پروڈکٹ کو یہاں شریعہ بورڈ کی منظوری حاصل ہے اور اس کے جائز ہونے کے بارے میں باقاعدہ فتویٰ بھی جاری کیا گیا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرے لیے اس قسم کی اسلامی پرسنل فنانسنگ حاصل کرنا شرعاً جائز ہے؟اور کیا صرف شریعہ سرٹیفکیشن اور فتویٰ کی بنیاد پر اس فنانسنگ کو اختیار کیا جا سکتا ہے یا اس کے معاہدے اور عملی طریقۂ کار کی مزید تفصیل کا جائزہ لینا ضروری ہے؟ براہِ کرم اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: سوال میں بینک کے بارے میں تفصیلات ذکر نہیں کی گئی کہ کس بینک سے اور کس معاہدہ کے تحت یہ فائنانسنگ لی جارہی ہے، اس لیے اس بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی جاسکتی، تاہم مذکورہ بینک اگر مستند علماء کرام کی زیر نگرانی شرعی اصولوں کے مطابق کام کر رہا ہو تو یہ سہولت بھی شرعی اصولوں کے مطابق دی جارہی ہوگی، لہذا بہتر ہے کہ آپ اس بینک سے اس پراڈکٹ کے معاہدہ اور شرعی سرٹیفکیٹ (فتوی) کے بارے میں معلوم کرلیں، اگر آپ کو اس بینک کے علماء کرام کی تحقیق اور فتوی پر اعتماد ہو تو ان کی رائے پر عمل کرتے ہوئے آپ اس سہولت سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (البقرۃ، الآیة: 275)
وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الۡبَیۡعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا...الخ

اعلاء السنن: (566/14، ط: دار الکتب العلمیة)
"عن علي رضي اﷲ عنه مرفوعا کل قرض جر منفعة فہو ربا. وقال الموفق: کل قرض شرط فیه الزیادة فهو حرام بلا خلاف

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance