resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: سود پر قرض لے کر خریدی گئی زمین کو بیچنے سے ہونے والے نفع سے حج کرنے کا حکم

(52323-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! ایک شخص بینک سے 12 لاکھ روپے لون لے کر زمین خریدتا ہے، دو سال کے بعد اسی زمین کو 18 لاکھ روپے میں بیچ دیتا ہے، لون سود کے ساتھ 14 لاکھ روپے بینک کو ادا کرتا ہے اور باقی چار لاکھ روپے جو اسے نفعع کے طور پر حاصل ہوا ہے، اس سے وہ شخص حج ادا کرنا چاہ رہا ہے، کیا اس شخص کے لیے اس رقم سے حج کرنا صحیح ہے اور کیا اس رقم کو اپنے لیے استعمال کرنا درست ہے؟ برائے کرم جواب دے کر ممنون فرمائیں۔

جواب: واضح رہے کہ سودی معاملہ کرنا اور سود پر قرض لینا شرعاً حرام و ناجائز ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں سود کی سخت ممانعت آئی ہے، بلکہ حدیثِ پاک میں سود کھانے والے، سود کھلانے والے، سود کا معاملہ لکھنے والے اور اس پر گواہ بننے والوں سب پر لعنت فرمائی گئی ہے، لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ سودی معاملات سے مکمل اجتناب کرے۔
اگر کوئی شخص سود پر قرض لے لے تو اس کے لیے اس رقم کو استعمال کرنا جائز نہیں، بلکہ اس پر لازم ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، اس ناجائز معاملے کو ختم کرے اور اپنے اس گناہ پر صدقِ دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ و استغفار کرے۔ تاہم اگر اس نے سود پر حاصل کردہ قرض سے کوئی چیز خرید لی تو وہ شرعاً اس چیز کا مالک بن جاتا ہے، اور بعد میں اس چیز کو فروخت کرنے سے حاصل ہونے والا نفع اس کے لیے حلال ہوتا ہے، البتہ سودی قرض لینے اور اس سے فائدہ اٹھانے کا گناہ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے، جس سے توبہ کرنا ضروری ہے۔
سوال میں پوچھی گئی صورت میں چونکہ مذکورہ شخص نے بینک سے سود پر بارہ (12) لاکھ روپے قرض لینے کے بعد اس رقم سے زمین خریدی، اس لیے وہ اس زمین کا شرعاً مالک بن گیا۔ بعد ازاں جب اس نے وہ زمین اٹھارہ (18) لاکھ روپے میں فروخت کی تو حاصل ہونے والا چھ (6) لاکھ روپے کا نفع اس کے لیے حلال ہے، لہٰذا اس نفع کی رقم سے حج ادا کیا تو حج ادا ہوجائے گا اور وہ اس رقم کو اپنی دیگر جائز ضروریات میں بھی استعمال کر سکتا ہے۔
البتہ اس شخص پر لازم ہے کہ سود پر قرض لینے کے گناہ سے صدقِ دل کے ساتھ توبہ کرے اور آئندہ ایسے معاملات سے مکمل اجتناب کرے۔

دلائل:

القرآن الكريم (البقرة: 275):
{وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ}

سنن الترمذي (599/2، رقم الحديث:1191، ط: البشرى):
عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن ابن مسعود قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، وموكله، وشاهديه، وكاتبه.
وفي الباب عن عمر، وعلي، وجابر، وأبي جحيفة.
حديث عبد الله حديث حسن صحيح.

الدر المختار مع هامشه رد المحتار (161/5، ط:ایچ ایم سعید):
واعلم أن المقبوض بقرض فاسد كمقبوض ببيع فاسد سواء فيحرم الانتفاع به لا بيعه لثبوت الملك جامع الفصولين.
وقال العلامة الشامي رحمه الله تحته:
(قوله فيحرم إلخ) عبارة جامع الفصولين ثم في كل موضع لا يجوز القرض لم يجز الانتفاع به لعدم الحل، ويجوز بيعه لثبوت الملك كبيع فاسد اه فقوله: ويجوز بيعه بمعنى يصح لا بمعنى يحل.

فقه البيوع (1051/2، ط: معارف القراۤن):
أما البائع إذا قبض الثمن في البيع الفاسد، فإنه يجب عليه ردّه إلى المشتري، ولكن إن اشترى به شيئا، فإنه يطيب له ربحه، لأنّ الثمن الذي اشترى به ذلك الشيئ غير متعيّن، حتى لو أشار وقت العقد إلى النقود التي قبضها ببيع فاسد، فإنّ له أن يدفع غيرها، فلا تصح نسبة شراء ذلك الشيئ إلى ما قبض من الثمن ببيع فاسد. ولكن نفاذ هذا الشراء لا يخلصه من وجوب فسخ العقد الفاسد، وردّ الثن أو مثله إن أمكن.

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance