resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بینک سے سودی قرض لے کر مکان بنانے کا حکم

(59414-No)

سوال: میں نے 2021ء میں SCB سے دس لاکھ روپے کا روایتی (Conventional) پرسنل لون لیا تھا، جس میں سود شامل تھا، میں نے یہ پوری رقم ایک پلاٹ خریدنے کے لیے استعمال کی، جس کی کل قیمت 24 لاکھ روپے تھی، جبکہ باقی 14 لاکھ روپے میں نے اپنی حلال بچت سے ادا کیے، بعد میں میں نے SCB کو 12 لاکھ روپے واپس کیے، اب اس پلاٹ کی موجودہ مالیت تقریباً 31 لاکھ روپےہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ:
1) کیا میرے لیے اس پلاٹ کو فروخت کرنا ضروری ہے؟
2) اگر میں اسے فروخت کروں تو کیا حاصل ہونے والی 31 لاکھ روپے کی پوری رقم میرے لیے حلال ہوگی اور میں اسے اپنے پاس رکھ سکتا ہوں؟
3) کیا اس رقم میں سے کسی حصے کو صدقہ کرنا یا کسی دوسرے مصرف میں دینا ضروری ہوگا؟ اس وقت ہمیں معلوم نہیں تھا کہ سود (ربا) حرام ہے، اب ہمیں اس کا علم ہوا ہے اور ہم اس گناہ سے توبہ کرنا چاہتے ہیں۔

جواب: 1-3) واضح رہے کہ سود گناہ کبیرہ ہے، قرآن و سنت میں اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، اس لئے بینک وغیرہ سے سودی قرض لینے کا معاملہ کرنا ناجائز اور حرام ہے، تاہم اگر کسی نے معاملہ کرلیا ہو تو اسے سودی معاملہ کرنے کا تو گناہ ہوگا، البتہ قرض کے طور پر لی گئی رقم بذات خود حرام نہیں کہلائے گی، کیونکہ بینک کے پاس موجود ساری رقوم حرام نہیں ہوتیں، بلکہ حلال و حرام سے مخلوط رقم ہوتی ہے، اور زیادہ تر رقوم جو لوگوں سے لی ہوتی ہیں، وہ حلال ہوتی ہیں، اس لئے بینک سے لیے گئے پیسے بذات خود حرام نہیں ہوں گے۔
لہذا اس قرض کی رقم سے خریدا گیا مکان بھی آپ کے لیے حرام نہیں ہوگا، لیکن بینک کے ساتھ قرض پر اضافی رقم کا لین دین ناجائز اور حرام ہے، آپ نے بھی چونکہ ایک سودی معاملہ کیا ہے، لہذا اس گناہ پر اللہ پاک کے حضور صدق دل سے توبہ و استغفار کرنا ضروری ہے، تاکہ اللہ پاک اس گناہ کو معاف فرما کر اس کے وبال سے حفاظت فرمائے، باقی آپ کیلئے اس پلاٹ کو فروخت کرنا یا کسی مخصوص رقم کو صدقہ کرنا شرعاً لازم نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (البقرة، الایة: 278، 279)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ o فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ o

صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 1598، ط: دار إحياء التراث العربي)
عن جابر قال: «لعن رسول الله صلى الله عَليه وسلم آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ» ، وقال: هم سواء

رد المحتار: (99/5، ط: دار الفکر)
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه

بذل المجھود: (359/1، ط: مرکز الشیخ أبي الحسن الندوي)
یجب علیہ أن یردہ إن وجد المالک وإلا ففي جمیع الصور یجب علیہ أن یتصدق بمثل ملک الأموال علی الفقراء.

فقه البیوع: (1061/2، ط: معارف القرآن)
القسم الثالث: ماکان مجموعا من الحلال والحرام، وھوعلی اربع صور:الصورة الاولی ان یکون الحلال عندالغاصب اوکاسب الحرام متمیزا من الحرام،فیجری علی کل واحد منہما احکامہ،وان اعطی احدا من الحلال حل للآخذ،وان اعطی من الحرام حرم علیہ،وان علم الآخذ ان الحلال والحرام متمیزان عندہ،ولکن لم یعلم ان مایاخذہ من الحلال او من الحرام،فالعبرة عندالحنفیة للغلبة،فان کان الغالب فی مال المعطی الحرام لم یجزلہ،وان کان الغالب می مالہ الحلال ،وسع لہ ذالک....ومنہ یعلم حکم التعامل مع البنوک الربویة وان اموال البنک الربوی مخلوطة بالحلال والحرام، فان راس المال الذی یفترض فیہ انہ حلال مالم یعرف خلاف ذلک، ومنہا الاموال المودعة فیہامن قبل المودعین ویفترض فیہا ایضا انہاحلال مالم یثبت خلاف ذالک، ومنہا ایرادات البنک عوضا عن الخدمات الجائزة شرعا،مثل تحویل المبالغ، وعملیات التبادل العاجل للعملات وغیرھا وھی حلال ایضا۔ وفیہا ایراداتہا الغالبة الحاصلة من تعاملتہ الربویة، وھی حرام، فاموال البنک الربوی داخل فی الصورة الثالثة من القسم الثالث، فیجوزالتعامل معہ بقدر ما فیہا من الحلال.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance