سوال:
حضرت میرا سوال یہ ہے کہ گورنمنٹ کے ایمپلائز کا سیلری کے لیے گورنمنٹ نے اپنے سے ہی کچھ لوگوں کا نیشنل بینک میں سیونگ اکاونٹ اور کسی کا کرنٹ اکاونٹ کھلوا لیا، اب ہم اسے تبدیل بھی نہیں کر سکتے، پوچھنا یہ تھا کہ ہم اسے صرف سیلری کیلئے ہی استعمال کرتے ہیں لیکن پھر بھی نیشنل بینک سال کے آخر میں ان کو پرافٹ لگا دیتا ہے، کیا اسے استعمال کرنا جائز ہے یا استعمال نہ کیا جائے؟
جواب: واضح رہے کہ مروّجہ سودی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں حاصل ہونے والی اضافی رقم سود کے حکم میں داخل ہے، اس لئے اس سے اجتناب لازم ہے۔
لہذا اگر سرکاری ملازم کیلئے نیشنل بینک کی سودی برانچ میں ہی اکاؤنٹ کھلوانا ضروری ہو تو اس کے ذمہ لازم ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ ہی کھلوائے، اور اگر کسی ملازم کا سیونگ اکاؤنٹ کھل گیا ہو تو اسے کرنٹ اکاؤنٹ میں تبدیل کرنے کی حتی الامکان کوشش کرے، اور اگر تبدیل نہ ہو سکے تو ملازم کے ذمہ لازم ہے کہ جیسے ہی اس کے اکاؤنٹ میں تنخواہ آئے تو تنخواہ کی رقم فوراً وہاں سے نکلوا لے تاکہ اس پر سود نہ لگے، اور اگر پھر بھی کبھی سود آ جائے تو اسے ثواب کی نیت کے بغیر اپنی ملک سے نکال کر صدقہ کردے، اس اضافی رقم کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*
*القرآن الكريم (البقرة: 275):*
{وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ}
*بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 395، ط: ایچ ایم سعید):*
(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب.
*رد المحتار على الدر المختار (5 /99، ط: ایچ ایم سعید):*
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه.
والله تعالى أعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص، كراچی