resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: دوسرے کی انشورنس شدہ گاڑی کے نقصان کی تلافی کا حکم

(62590-No)

سوال: السلام علیکم! میں سڈنی میں ایک حادثے میں ملوث ہوا، جس میں غلطی میری تھی۔ نیو ساؤتھ ویلز (NSW)، جو آسٹریلیا کی ایک ریاست ہے، میں گاڑی کا انشورنس لازمی نہیں ہے، اس لیے میری گاڑی کا کوئی انشورنس نہیں تھا، البتہ جس خاتون کی گاڑی کو میری وجہ سے حادثے میں نقصان پہنچا، اس کی اپنی گاڑی کا انشورنس تھا، چنانچہ اس نے اپنی انشورنس کمپنی کے ذریعے اپنی گاڑی کی مرمت کروا لی، اس سلسلے میں میرے تین سوالات ہیں:
1) کیا مجھے اس خاتون کی انشورنس کمپنی کو گاڑی کی مرمت وغیرہ کے اخراجات اور دیگر نقصانات کی رقم ادا کرنا ہوگی یا مجھے براہِ راست اس خاتون کو رقم ادا کرنی ہوگی؟ چونکہ اس کی گاڑی کی مرمت اس کی انشورنس کمپنی نے کروا دی ہے تو میں اسے براہِ راست کس طرح نقصان کی تلافی کروں گا؟ اگر انشورنس کمپنی نے اس کے نقصان کی تلافی کردی ہے تو کیا مجھ پر اب بھی کوئی رقم ادا کرنا لازم ہے؟
2) عام طور پر انشورنس کمپنیاں مکینکوں اور دیگر مرمت کرنے والوں کی جانب سے بڑھا چڑھا کر یا اصل سے زیادہ تخمینہ شدہ بل بھی وصول کرتی ہیں، تاکہ اس طرح کے حادثے سے مالی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔ ایسی صورت میں کیا میرے لیے ضروری ہے کہ انشورنس کمپنی جتنی رقم طلب کرے، میں وہ پوری ادا کروں؟ یا میں اس رقم میں کمی کے لیے مذاکرات کرسکتا ہوں؟ مثلاً اگر گاڑی کے نقصان کا اندازہ مختلف مکینکوں کے عمومی تخمینوں کی بنیاد پر تقریباً 5,000 ڈالر بنتا ہو، لیکن انشورنس کمپنی مجھ سے 15,000 ڈالر کا مطالبہ کرے، تو کیا میں مذاکرات کرکے صرف 5,000 ڈالر ادا کرسکتا ہوں؟
3) اگر میں پوری رقم، مثلاً 30,000 ڈالر، ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہوں، لیکن اس رقم کی ادائیگی سے میرے آئندہ حج یا دیگر ضروری منصوبے متاثر ہوتے ہوں اور میری زندگی مالی طور پر مشکل ہوجاتی ہو، تو کیا میں انشورنس کمپنی سے رقم میں کمی کے لیے مذاکرات کرسکتا ہوں؟ نیز کیا میں یہ رقم قسطوں میں ادا کرسکتا ہوں؟ جزاکم اللہ خیراً

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر حادثہ آپ کی غلطی سے پیش آیا اور خاتون کی گاڑی کو نقصان پہنچا تو شرعاً اس نقصان کی تلافی آپ کے ذمہ لازم ہے۔ آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
(1) اگرچہ انشورنس کمپنی نے خاتون کے نقصان کی تلافی کردی ہے، لیکن چونکہ خاتون نے انشورنس کمپنی سےاپنی گاڑی کے انشورنس کا معاملہ کیا ہوا تھا، جس کے لیے وہ باقاعدگی سے پریمیم ادا کر رہی ہوں گی، اس لیے حقیقی نقصان کی حد تک ادائیگی کرنا آپ پر لازم ہے۔
واضح رہے کہ اصولی طور پر نقصان کی ادائیگی کی رقم اس خاتون کو دی جائے گی، البتہ اگر خاتون نے انشورنس کمپنی کو بطور وکیل/ایجنٹ مطالبہ کا حق دیدیا ہو تو ایسی صورت میں انشورنس کمپنی بھی مطالبہ کرسکتی ہے، اور آپ انشورنس کمپنی کو ادائیگی کرسکتے ہیں۔
(2) آپ پر صرف حقیقی نقصان کی تلافی لازم ہے۔ اگر کمپنی یا خاتون کا مطالبہ حقیقی نقصان سے زیادہ ہو تو آپ کو حق ہے کہ مناسب رقم پر مذاکرات کریں۔
(3) اگر یکمشت ادائیگی سے مالی دشواری پیدا ہو تو خاتون یا انشورنس کمپنی سے رعایت، مہلت یا قسطوں میں قسطون میں ادائیگی کی درخواست کرنا جائز ہے، اسی طرح باہمی رضامندی سے کم رقم پر صلح بھی ہوسکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*

*رد المحتار على الدر المختار (6/ 181، ط: دار الفكر):*
مَنْ أَتْلَفَ مَالَ غَيْرِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ ضَمِنَهُ

*بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 164، ط: دار الكتب العلمية):*
وَأَمَّا الضَّمَانُ فَيَجِبُ بِإِتْلَافِ مَالِ الْغَيْرِ، لِأَنَّ الْإِتْلَافَ سَبَبُ وُجُوبِ الضَّمَانِ

*مجلة الأحكام العدلية (ص ۳۰۳، المادة ۱۵۵۲):*
إذَا صَالَحَ أَحَدٌ عَنْ دَيْنِهِ الَّذِي هُوَ فِي ذِمَّةِ الْآخَرِ عَلَى مِقْدَارٍ مِنْهُ يَكُونُ قَدْ اسْتَوْفَى بَعْضَ دَيْنِهِ , وَأَسْقَطَ الْبَاقِيَ أَيْ أَبْرَأَ ذِمَّةَ الْمَدِينِ مِنْ الْبَاقِي

*مجلة الأحكام العدلية (ص ۳۰۳، المادة ۱۵۵۳):*
إذَا صَالَحَ أَحَدٌ عَلَى تَأْجِيلِ وَإِمْهَالِ كُلِّ نَوْعٍ مِنْ مَطْلُوبِهِ الَّذِي هُوَ مُعَجَّلٌ يَكُونُ قَدْ أَسْقَطَ حَقَّ تَعْجِيلِهِ

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance