سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہالسلام علیکم! میں ایک پرائیویٹ ہسپتال میں کام کرتا ہوں۔ یہ ہسپتال مجھے فری ہیلتھ انشورنس فراہم کرتا ہے جس میں مجھ سے کوئی انشورینس فیس نہیں لی جاتی اور سارا علاج یہ اپنے ہسپتال میں فراہم کرتے ہیں۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے کہ اس فری سہولت سے فائدہ اٹھانا کیسا ہے؟
یہ ہسپتال ہمیں آفر دیتا ہے کہ ہم اپنی بیوی اور بچوں کی بھی انشورنس ان کے ساتھ کروا سکتے ہیں۔ یہ فری نہیں ہے لیکن علاج اپنے ہسپتال میں ہی کرتے ہیں۔ یہ فیس بھی عام انشورنس فیس سے بہت کم ہے (ایک ہزار روپے کے مقابلے میں صرف پچاس روپے) رہنمائی فرمائیے کہ بیوی اور بچوں کے لیے اس انشورنس سکیم میں شامل ہونا کیسا ہے؟
جزاک اللہ خیر
جواب: پوچھی گئی صورت میں آپ کے لیے ہسپتال کی مذکورہ سہولت سے اپنے علاج کے لیے فائدہ اٹھانا جائز ہے , لیکن بیوی اور بچوں کے لیے علاج کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر آپ کے ہسپتال کا معاہدہ کسی انشورنس کمپنی سے ہے تو وہاں سے بیوی اور بچوں کے علاج کی سہولت حاصل کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ مروّجہ انشورنس سود اور غرر (غیر یقینی صورتِ حال) پر مشتمل ہونے کی وجہ جائز نہیں ہے، البتہ مروّجہ انشورنس کے متبادل کے طور پر علماء کرام نے شرعی اصولوں کے مطابق " تکافل" کا نظام تجویز کیا ہے، ایسی تکافل کمپنی جو مستند مفتیان کرام کے زیر نگرانی کام کر رہی ہو، ان سے پالیسی لینے کی گنجائش ہے۔ اور اگر آپ کے ہسپتال کا معاہدہ بھی ایسی تکافل کمپنی سے ہے تو آپ اپنی بیوی اور بچوں کے علاج کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (البقرة، الایة: 278، 279)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَo فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ o
فقه البیوع: (1066/2، ط: مکتبة دار العلوم کراتشی)
أما عملیة التأمین، فعملیة تشتمل علی الربوا أو علی الغرر أو علیھما کما سیأتی إن شاء اللہ تعالی. و بھذا أفتی
کذا فی تبویب الفتاوی جامعه دار العلوم کراچی: رقم الفتوی: (490/69)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی