سوال:
محترم مفتی صاحب! اگر ایک شخص کے اسلامک سیونگ اکاؤنٹ مثلاً میزان پاک قطر تکافل اکاؤنٹ میں کوئی دوسرا شخص باہر ملک سے پیسے بھیجے اور کہے مجھے جب ضرورت ہوگی تو لے لوں گا، اب سوال یہ ہے کہ جتنے دن پیسے پڑے رہیں گے، ان کا نفع اکاؤنٹ والے کا ہوگا یا جس کے پیسے ہیں؟ واضح رہے کہ بینک کسٹمر کے اکاؤنٹ کی فیس بھی کاٹتی ہے۔
جواب: پوچھی گئی صورت میں جو شخص باہر ملک سے آپ کے اکاؤنٹ میں پیسے بھیج رہا ہے، اس رقم کی حیثیت قرض کی ہے، اور قرض کی رقم پر مشروط طور پر منافع لینا سود کے زمرے میں آتا ہے، اس لیے اصل رقم پر اضافی رقم کا لین دین جائز نہیں ہے۔
جہاں تک تکافل یا بینک سے حاصل ہونے والے منافع کا تعلق ہے تو اگر وہ تکافل کمپنی/بینک مستند علماء کرام زیر نگرانی شرعی اصولوں کے مطابق کام کر رہا ہو تو اس سے حاصل ہونے والا نفع اکاؤنٹ ہولڈر کیلیے حلال ہوگا، اس نفع میں سے باہر ملک سے پیسے بھیجنے والے شخص کو حصہ دینا شرعاً لازم نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*
*القرآن الکریم: (البقرۃ، الآیة: 275)*
وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الۡبَیۡعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا...الخ
*اعلاء السنن: (566/14، ط: دار الکتب العلمیة)*
"عن علي رضي اﷲ عنه مرفوعا کل قرض جر منفعة فہو ربا. وقال الموفق: کل قرض شرط فیه الزیادة فهو حرام بلا خلاف
*فقه البیوع: (1063/2، ط: مکتبه معارف القرآن)*
وحساب التوفير (Saving Account) حساب يعطي الحق لصاحب الحساب أن يسحب حدا معينا من المبالغ المودَعة فيه، و يعطي البنك على ذلك فائدة ربوية بنسبة أدنى من النسبة التي تعطى لصاحب الوديعة الثابتة (Fixed Deposit) التي تودَعُ فيها الأموال إلى مدة معينة و تعطى البنوك لأصحابها فائدة بنسبة أعلى، وكل واحد من الحسابين ربوي بحت، و الإيداع في هذين الحسابين حرام شرعا، لكونه تعاقدا بالربوا.
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی