resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بیرون ملک جانے کے لیے انویسٹرز / بینک سے پیسے لے کر اکاؤنٹ میں رکھنا اور اس پر اضافی رقم ادا کرنا

(42153-No)

سوال: میرا ایک نہایت اہم سوال ہے اور مجھے اس بارے میں فتویٰ درکار ہے۔ امید ہے کہ معزز علماء کرام میری صورتحال کو سمجھیں گے۔
میں پچھلے تین سالوں سے مختلف ممالک کے ویزا کے لیے کوشش کر رہا ہوں، اس دوران مجھے اکثر مسترد (refusal) کا سامنا کرنا پڑا، آخرکار میں نے برطانیہ جانے کا فیصلہ کیا، میں نے اپنے دوستوں اور گھر والوں سے قرض لے کر یونیورسٹی کی فیس جمع کروائی۔
برطانیہ کی ویزا پروسیسنگ کے لیے بینک اسٹیٹمنٹ درکار ہوتی ہے، میرے ایک قریبی رشتہ دار نے مجھے کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں میری مدد کرے گا۔ میں نے ان پر اعتماد کیا اور اپنی فیس جمع کروا دی، لیکن اب وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ میری مدد نہیں کر سکتے۔
اگر میں نے اب بینک اسٹیٹمنٹ کا انتظام نہ کیا اور دوبارہ ویزا مسترد ہو گیا تو مجھے تقریباً 12 لاکھ روپے کا نقصان ہوگا، جو کہ مکمل طور پر ادھار لیا ہوا پیسہ ہے۔ یہ میری اپنی رقم نہیں ہے اور میں اسے واپس کرنے کی مکمل استطاعت نہیں رکھوں گا اور میں زندگی بھر قرض میں مبتلا رہوں گا۔
اس وقت میرے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ میں بینک سے ایسا قرض لوں جس پر سود (interest) لاگو ہوتا ہے، بینک مجھے رقم دیتا ہے اور اس پر اضافی رقم بطور سود وصول کرتا ہے۔ مجھے اصل میں رقم کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ صرف وہ بینک اسٹیٹمنٹ چاہیے جس میں یہ ظاہر ہو کہ میرے اکاؤنٹ میں مطلوبہ رقم موجود ہے۔
میں نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس سود والے قرض سے بچ سکوں، مگر کوئی حل نہیں نکل سکا۔ میرے والد کی ایک جائیداد موجود ہے، جسے ہم بیچ سکتے تھے، لیکن وہ اس پر راضی نہیں تھے۔ اب ہم اسے بیچنے کے لیے تیار ہیں، لیکن اتنے کم وقت میں اسے فروخت کرنا ممکن نہیں، میرے پاس صرف چند دن باقی ہیں۔
میں نے اپنے خاندان کے افراد سے بھی مدد کی درخواست کی، لیکن کہیں سے کوئی مدد نہیں ملی، میں مکمل طور پر بے بس ہوں۔
اللہ تعالیٰ ہر چیز دیکھ رہا ہے، وہ جانتا ہے کہ میں کن حالات سے گزر رہا ہوں۔ میں نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس سود والے قرض سے بچ سکوں، لیکن اب میرے پاس یہی آخری راستہ رہ گیا ہے۔ اب آپ مجھے بتائیں کہ کہ میں سودی قرض لے سکتا ہوں؟

جواب: سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق انویسٹر /بینک آپ کو جو پیسے دے گا، شرعاً ان کی حیثیت قرض کی ہے، جس پر اضافی رقم ادا کرنے کی شرط لگانا سود کے زمرے میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، لہذا اس طرح معاملہ کرنے سے اجتناب لازم ہے۔
تاہم ایسے موقع پر سودی بینک کی بجائے اگر مستند علماء کرام کی زیر نگرانی شرعی اصولوں کے مطابق چلنے والے کسی اسلامی بینک سے پرسنل فائنانس (Islamic Personal Financing) وغیرہ کی سہولت حاصل کی جاسکتی ہے، لیکن اگر کوئی ایسی صورت ممکن نہ ہو تو اگر قرض دینے والا (انویسٹر) آپ کو اپنی رقم کے ساتھ ساتھ کوئی اور حقیقی خدمت یا سروسز بھی فراہم کردے، مثلاً: آپ کے لیے ویزہ اپلائی کرنے یا قانونی کاغذات بنوانے میں معاونت وغیرہ کرے تو ایسی صورت میں قرض دینے والے کے لئے علیحدہ طور پر اس فراہم کردہ سروسز کے عوض باہمی رضامندی سے طے شدہ رقم بطور اجرت لینا جائز ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار: (کتاب البیوع، باب الربا، 398/7)
الربا فضل خال عن عوض بمعیار شرعي مشروط لأحد المتعاقدین في المعاوضة.

بدائع الصنائع: (کتاب القرض، 395/7، ط: سعید)
(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب.

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance