سوال:
ہم پانچ مرلہ کے ایک گروی گھر میں رہ رہے ہیں۔ ہم نے بیس لاکھ روپے گروی دیے ہوئے ہیں اور ساتھ ہر ماہ پانچ ہزار روپے کرایہ بھی دیتے ہیں، گھر کا مالک ہمیں چار لاکھ روپے واپس کرنا چاہتا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اب ہر ماہ 1بارہ روپے کرایہ دینا ہوگا۔ ہم اتنا کرایہ برداشت نہیں کرسکتے۔ اگر ہم یہ رقم میزان بینک میں رکھ کر اس پر منافع حاصل کریں تو کیا وہ حلال ہوگا یا حرام؟ کیونکہ ہمارے پاس آمدنی کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔
جواب: واضح رہے کہ مروّجہ سودی بینکاری کے متبادل کے طور پر مستند علماء کرام نے شریعت کے اصولوں کے مطابق غیر سودی بینکاری کا نظام تجویز کیا ہے، لہذا جو غیر سودی بینک مستند علماء کرام کی نگرانی میں شرعی اصولوں کے مطابق معاملات سر انجام دے رہے ہیں، ان کے پاس سیونگ اکاؤنٹ (جوکہ مضاربت کے معاہدہ کے تحت ہوتا ہے) کھلوانا اور منافع حاصل کرنا شرعاً درست ہے، البتہ وقتاً فوقتاً دارالافتاء سے پوچھتے رہنا چاہیے، تاکہ اگر کسی وقت اگر بینک کی طرف سے شرعی اصولوں سے انحراف سامنے تو اس پر مطّلع کیا جاسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (البقرۃ، الآیة: 275)
وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الۡبَیۡعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا...الخ
اعلاء السنن: (566/14، ط: دار الکتب العلمیة)
"عن علي رضي اﷲ عنه مرفوعا کل قرض جر منفعة فہو ربا. وقال الموفق: کل قرض شرط فیه الزیادة فهو حرام بلا خلاف
فقه البیوع: (1063/2، ط: مکتبه معارف القرآن)
وحساب التوفير (Saving Account) حساب يعطي الحق لصاحب الحساب أن يسحب حدا معينا من المبالغ المودَعة فيه، و يعطي البنك على ذلك فائدة ربوية بنسبة أدنى من النسبة التي تعطى لصاحب الوديعة الثابتة (Fixed Deposit) التي تودَعُ فيها الأموال إلى مدة معينة و تعطى البنوك لأصحابها فائدة بنسبة أعلى، وكل واحد من الحسابين ربوي بحت، و الإيداع في هذين الحسابين حرام شرعا، لكونه تعاقدا بالربوا.
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی