resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: "وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام" ہاؤسنگ اسکیم کا شرعی حکم

(42100-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں ایک سرکاری ملازم ہوں اور الحمدللہ میری آمدنی مناسب ہے۔ میں سود سے بچنا چاہتا ہوں کیونکہ سود کے بارے میں شریعت میں سخت وعید موجود ہے۔ اسی وجہ سے میں نے “وزیراعظم اپنا گھر پروگرام” کے تحت اسلامی بینک کی فنانسنگ کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے، خصوصاً Meezan Bank اور Askari Islamic Banking کی Diminishing Musharakah اسکیم۔
میں آپ سے درج ذیل مسئلہ میں شرعی رہنمائی چاہتا ہوں:
اس اسکیم میں بینک اور کسٹمر مشترکہ طور پر گھر خریدتے ہیں، بینک اپنی ملکیت کے حصے پر “رینٹل” لیتا ہے، کسٹمر ہر ماہ قسط کے ساتھ بینک کے Musharakah Units خریدتا رہتا ہے، وقت کے ساتھ بینک کی ملکیت کم اور کسٹمر کی ملکیت بڑھتی رہتی ہے، بینک اصل کاغذات اپنی تحویل میں رکھتا ہے جب تک مکمل ادائیگی نہ ہو جائے۔
10 سال تک فکس ریٹ ہے، اس کے بعد KIBOR کے ساتھ Repricing ہوتی ہے، قبل از وقت ادائیگی پر کوئی اضافی چارج نہیں، بلکہ اضافی Units Purchase کی جاتی ہیں، لیٹ پیمنٹ پر “چیریٹی” چارج لکھا گیا ہے، سود نہیں۔
میرا مقصد صرف اپنے خاندان کے لیے رہائش حاصل کرنا ہے، نہ کہ سرمایہ کاری یا کاروبار، میں کوشش کر رہا ہوں کہ اگر یہ فنانسنگ لوں تو 10 سال کے اندر مکمل کر دوں تاکہ بعد کی KIBOR Repricing سے بھی بچ سکوں۔
میرا سوال یہ ہےکیا یہ Diminishing Musharakah ماڈل شرعاً جائز اور سود سے مختلف ہےیا عملی طور پر یہ بھی سودی قرض ہی کے حکم میں آئے گا؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور معاصر اسلامی فقہ کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں تاکہ میں اطمینانِ قلب کے ساتھ فیصلہ کر سکوں۔

جواب: ہماری معلومات کے مطابق "وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام" حکومت کی طرف سے عوام الناس کیلیے اپنا گھر حاصل کرنے کی ایک رعایتی اسکیم ہے، جو کہ سودی اور غیر سودی دونوں قسم کے بینکوں کے ذریعے دی جارہی ہے۔
سودی بینکوں میں چونکہ یہ سہولت قرض (loan) کے ذریعے دی جارہی ہے، اور قرض کی رقم مشروط (conditional) اضافی رقم لینے کا معاہدہ ہوتا ہے، جوکہ سود پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں۔
جبکہ غیر سودی (اسلامی) بینکوں میں یہ سہولت قرض پر اضافی رقم لینے کی بجائے "شرکت متناقصہ" (Diminishing Musharakah) کے طور دی جاتی ہے۔ جس کے تحت کچھ سرمایہ کسٹمر (مثلا؛10فیصد) اور بقیہ سرمایہ(مثلا؛ 90 فیصد) بینک کی جانب سے ہوتا ہے، دونوں کے سرمایے سے مشترکہ طور پر گھر خرید لیا جاتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں بینک گھر کا اپنا حصہ کسٹمر کو کرایہ پر دیتا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ ماہانہ بنیادوں پر بینک گھر میں اپنا ایک ملکیتی حصہ (Musharakah unit) کسٹمر کو بیچتا رہتا ہے، یوں کسٹمر کی ملکیت بڑھتی رہتی ہے، اور بینک کی ملکیت کم ہوتی رہتی ہے۔ آخری قسط کی ادائیگی کے وقت کسٹمر مکمل گھر کا مالک بن جاتا ہے۔
بینک اپنے گھر کو استعمال کرنے کے عوض کرایہ (Rent) اور اپنے ملکیتی حصے (Units) بیچنے کے عوض پہلے سے طے شدہ اضافی رقم (fix return) ماہانہ قسطوں کی بنیاد پر لے لیتا ہے، یہ رقم چونکہ کرایہ اور یونٹ کی قیمت کے طور پر ہوتی ہے، اس لیے پہلے سے طے کرنے میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے۔
نیز اسی صورت میں اگر معاہدہ کی مدّت کے دوران اگر (کسٹمر کی غفلت و کوتاہی کے بغیر) گھر کو کوئی نقصان ہوجائے تو بینک اور کسٹمر دونوں اپنے ملکیتی تناسب کے مطابق وہ نقصان برداشت کریں گے۔
لہذا شرکت متناقصہ ایک جائز طریقہ تمویل (Islamic mode of Finance) ہے، چنانچہ جو غیر سودی بینک مستند علماء کرام کی زیر نگرانی "شرکت متناقصہ" ( Diminishing Musharakah) کی تفصیلات اور شرائط تحت گھر کی فائنانسنگ کر رہا ہو، اس سے یہ سہولت حاصل کرنے کی گنجائش ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

المعايير الشرعية: (ص: 128، رقم المعيار: 12)
المشارکة المتناقضة عبارة عن شرکة يتعهد فیھا احد الشرکاء بشراء حصة الآخر تدریجیا الی أن یتملك المشتری المشروع بکامله وان ھذہ العملية تتکون من الشرکة فی اول الأمر،ثم البیع والشراء بین الشریکین، ولابد ان تکون الشرکة غیر مشترط فیھا البیع والشراء، وانما یتعھد الشریک بذلك بوعد منفصل عن الشرکة، وکذلك یقع البیع والشراء بعقد منفصل عن الشرکة، ولا یجوز أن یشترط احد العقدین فی الآخر۔

المعاییر الشرعیة: (الشرکة، المشارکة و الشرکات الحدیثیة، المشارکة المتناقصة)
5/7 یجوز اِصدار احدالشریکین وعدا ملزما یحق بموجبه لشریکه تملك حصته تدریجیا من خلال عقد بیع عند الشراء وبحسب القیمة السوقیة فی کل حین او بالقیمة التی یتفق علیھا عند الشراء. ولا یجوز اشتراط البیع بالقیمة الاسمیة.

فقه البيوع: (526/1، ط: معارف القرآن)
اما اذا آجر المؤجر عینا ولم یکن البیع مشروطا فی عقد الإجارۃ ولکن وعد المؤجر بالبیع منفصلا عن العقد فینبغی الجواز بشرط أن تجری علیہ جمیع أحکام الإجارۃ طوال المدۃ.

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance