resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: "علی معاویہ" نام رکھنے کا حکم

(42143-No)

سوال: میں نے اپنے بیٹے کا نام علی معاویہ رکھنے کے بارے میں سوچا ہے، مہربانی فرما کر اس نام کا مطلب بھی بتا دیں اور یہ بھی بتا دیں کہ یہ نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ مفرد نام (ایک لفظ والے نام) کی طرح مرکب نام (ایک سے زائد الفاظ پر مشتمل نام) رکھنا بھی جائز ہے، بشرطیکہ اس کا معنی صحیح ہو، البتہ مفرد نام رکھنا زیادہ بہتر ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں بہتر تو یہ ہے کہ علی یا معاویہ میں سے کوئی ایک نام رکھا جائے، البتہ دونوں نام (علی معاویہ) ملاکر رکھنا بھی جائز ہے۔
نیز جو نام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے ناموں پر ہوں ان کے معانی میں جستجو کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اگر ان ناموں کے معنی میں کوئی خرابی ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو تبدیل فرما دیتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو تبدیل نہ فرمایا تو یہ ان ناموں کے درست اور ان کے استعمال کے جائز ہونے کی دلیل ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

تحفة المودود بأحكام المولود: (ص: 144، ط: مكتبة دار البيان)
لما كان المقصود بالاسم التعريف والتمييز وكان الاسم الواحد كافيا في ذلك كان الاقتصار عليه أولى ويجوز التسمية بأكثر من اسم واحد كما يوضع له اسم وكنية ولقب.

الفقه الاسلامی و ادلته: (2753/4، ط: دار الفکر)
ويجوز التسمية بأكثر من اسم واحد، والاقتصار على اسم واحد أولى، لفعله صلّى الله عليه وسلم بأولاده.

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Islamic Names