سوال:
مفتی صاحب! کیا بچے کا نام محمد یحیی ثاقب رکھنا صحیح ہے؟
جواب: واضح رہے کہ مفرد نام (ایک لفظ والے نام) کی طرح مرکّب نام (ایک سے زائد الفاظ پر مشتمل نام) رکھنا بھی جائز ہے، بشرطیکہ اس کا معنی صحیح ہو، البتہ مفرد نام رکھنا زیادہ بہتر ہے، تاہم "محمد یحییٰ ثاقب" نام رکھنا درست ہے، کیونکہ "یحی'' ایک جلیل القدر پیغمبر کا نام ہے جس کا ''معنی زندہ رہنے اور نشوونما ہونے والا'' کے آتے ہیں اور "ثاقب" کا معنی ہے "روشن، چمک دار"، لہذا یہ نام رکھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: (المریم، الایة: 7)*
يَا زَكَرِيَّآ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامِ ِۨ اسْمُهٝ يَحْيٰىۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٝ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّاo
*القاموس الوحید: (ص: 336، ط: ادارہ اسلامیات)*
حیی حیاة و حیوانا: زندہ رہنا، نشوونما والا ہونا۔ حی یحیا بھی کہا جاتا ہے ھو حی۔
*القاموس الوحید: (ص: 183، ط: ادارہ اسلامیات)*
الثاقب: تہہ کو پہنچا ہوا،نافذ،آرپا،روشن، چمک دار۔
والله تعالی أعلم بالصواب
دار الإفتاء الإخلاص کراچی