resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: جس قرض کے ملنے کی امید نہ ہو اس پر زکوٰۃ

(42147-No)

سوال: السلام علیکم، آج سے کچھ عرصہ پہلے ایک سے دو لوگوں نے میرے کچھ پیسے تقریبا 1500 سے 2000 روپے دینے تھے، لیکن ایک سے دو سال ہونے کے باوجود ابھی تک مجھے وہ پیسے واپس نہیں دیے، میں ایک سال تک تو پیچھے پڑا اور مانگے لیکن اب مجھے بھی مانگنے میں ذرا عجیب لگتا ہے اور میں نے چھوڑ دیا، پوچھتا یہ ہے کہ میں اس کی زکوۃ دوں یا اس کو بس اللہ کے لیے معاف کر دیا تو ابھی ختم؟ اگر کبھی بعد میں کچھ سال بعد وہ بندے پیسے دیں تو اس کا پھر کیا حکم ہوگا اس کی زکوۃ دی جائے گی یا ان کو منع کر دیا جائے کہ اب ہم پیسے نہیں لیں گے؟
اسی طرح ہماری دکان میں بھی لوگوں کے کوئی 10 سال 15 سال پرانے پیسے جو کہ ہمیں پتہ ہے کہ اب ملنے نہیں ہیں کیونکہ لوگوں سے مانگ مانگ کے ہم تھک گئے لیکن لوگ اب دیتے نہیں، بس بولتے ہیں کہ دے دیں گے کہیں بھاگے نہیں جا رہے تو کیا اس کی بھی زکوۃ دی جائے یا اس کو چھوڑ دیا جائے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرما جزاک اللہ

جواب: پوچھی گئی صورت میں قرض کی جس رقم کی وصولی کی بالکل امید نہ ہو تو اس رقم پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی، بلکہ ملنے کے بعد بھی اس رقم کی گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی لازم نہیں ہوگی، البتہ جس رقم کی وصولیابی میں بالکل مایوسی نہ ہو بلکہ دونوں احتمالات ہوں کہ ملے یا نہ ملے، یا مقروض کی تنگدستی کی وجہ سے جس رقم کے ملنے کی امید نہ ہو تو اس رقم پر زکوٰۃ واجب ہوگی، البتہ اس صورت میں زکوٰۃ کی ادائیگی کو رقم کی وصولیابی کے وقت تک مؤخر کیا جاسکتا ہے۔
البتہ اگر آپ متعلقہ لوگوں کو یہ رقم معاف کر دیتے ہیں تو ایسی صورت میں اس رقم کے متعلق زکوٰۃ کا حکم آپ پر لاگو نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*تبیین الحقائق: (255/1، ط: المطبعۃ الکبریٰ الامیریۃ)*
يشترط لوجوب الزكاة أن يكون ناميا حقيقة بالتوالد والتناسل وبالتجارات أو تقديرا بأن يتمكن من الاستنماء بكون المال في يده أو يد نائبه لما ذكرنا أن السبب هو المال النامي فلا بد منه تحقيقا أو تقديرا فإن لم يتمكن من الاستنماء فلا زكاة عليه لفقد شرطه وذلك مثل مال الضمار كالآبق والمفقود۔۔۔۔۔والدين المجحود إذا لم يكن عليه بينة ثم صارت له بعد سنين بأن أقر عند الناس، وإن كان المودع من معارفه تجب عليه زكاة الماضي إذا تذكر۔۔۔۔۔وقال الحسن بن زياد: لا تجب إذا كان الغريم فقيرا؛ لأنه لا ينتفع به، وكذا قال محمد: إذا كان مفلسا بناء على تحقق الإفلاس بالتفليس عنده وأبو يوسف معه فيه

*البحر الرائق: (222/2، ط: دار الکتاب الاسلامی)*
وفي الشرع هو نوعان حقيقي وتقديري فالحقيقي الزيادة بالتوالد والتناسل والتجارات، والتقديري تمكنه من الزيادة بكون المال في يده أو في يد نائبه فلا زكاة على من لم يتمكن منها في ماله كمال الضمار، وهو في اللغة الغائب الذي لا يرجى فإذا رجي فليس بضمار، وأصله الإضمار، وهو التغييب والإخفاء۔۔۔۔۔۔ومال الضمار هو الدين المجحود۔۔۔۔ولو كان على مقر مفلس فهو نصاب عند أبي حنيفة؛ لأن تفليس القاضي لا يصح عنده، وعند محمد لا يجب لتحقق الإفلاس عنده بالتفليس وأبو يوسف مع محمد في تحقق الإفلاس، ومع أبي حنيفة في حكم الزكاة رعاية لجانب الفقراء كذا في الهداية فأفاد أنه إذا قبض الدين زكاه لما مضى

*فتاوی عثمانی: (76/2، ط: معارف القرآن)*

*نجم الفتاویٰ: (93/3، ط: شعبہ نشر و اشاعت دارالعلوم یاسین القرآن)*

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat