سوال:
السلام علیکم ورحمتہ اللہ، گزارش ہے میں یہاں کینیڈا میں مقیم ہوں اور ہمارے علاقے میں ایک سابقہ چرچ خریدا جا رہا ہے جس کو مسجد/مصلی میں تبدیل کردیا جائے گا، یہاں کینیڈا میں یہ معمول کی بات ہے کہ چرچ، دیگر عمارتوں یا پلازہ میں کوئی یونٹ لیکر مسجد/ مصلی بنادیا جاتا ہے۔ سابقہ چرچ کو خریدنے کے لیے رقم جمع کی جارہی ہے، مسجد کے امام صاحب جو مصر سے ہیں، انہوں نے زکوۃ کی رقم کو بھی مسجد کی خریداری کے لیے جائز قرار دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ میری معلومات کے حساب سے زکوۃ کی رقم مسجد کی تعمیرات یا خریداری کے لیے جائز نہیں ہے، یاد رہے کہ موجودہ مصلی جو ایک عمارت میں ہے، وہ چھوٹا پڑ رہا ہے اور لیز پر ہے، لہذا چرچ جو کہ بڑا ہے خریدا جا رہا ہے، تاکہ ملکیت ہماری مسلم کمیونیٹی کی ہی ہو، آپ سے اس سلسلے میں رہنمائی درکار ہے۔ جزاک اللّٰہ خیر
جواب: زکوة کی رقم مسجد کی خریداری اور تعمیر میں لگانا جائز نہیں ہے، البتہ اگر یہ رقم ملکیتاً کسی مستحقِ زکوة کے قبضہ میں دے دی جائے اور پھر وہ اپنی رضامندی سے مسجد کی تعمیر میں یہ رقم دیدے تو ایسی صورت میں اس رقم کا استعمال مسجد کی خریداری اور تعمیر میں کرنا جائز ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الھندیة: (188/1، ط: دار الفکر)
ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی