سوال:
مفتی صاحب! یہ پوچھنا تھا کہ ہم جو یہ نشانی کے لیے یا اسکول کے دور کی فوٹو رکھتے ہیں، یہ پرنٹ ہوئی ہوتی ہیں اور اس طرح نشانی کے لیے بعض فوٹو رکھتے ہیں، بعض فوٹو ایسے ہوتے ہیں کہ بعض ضرورت کی جگہ کام آتے ہیں، اس لیے سنبھال کے رکھتے ہیں تو کیا کرنا چاہیے رکھنا چاہیے یا نہیں؟
جواب: واضح رہے کہ بلا ضرورت جاندار کی پرنٹ شدہ (Printed) تصاویر بنانا اور رکھنا ناجائز ہے، حدیثِ مبارکہ میں تصاویر کے بارے میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، البتہ شناختی کارڈ، پاسپورٹ یا دیگر ضروری دستاویزات کے لیے ضرورت کے تحت پرنٹ شدہ (Printed) تصویر بنوانے کی گنجائش ہے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں محض یادگار یا نشانی کے طور پر پرنٹ شدہ تصاویر سنبھال کر رکھنا جائز نہیں، البتہ وہ تصاویر جو ضروری کاغذات وغیرہ کے لیے بنوائی گئی ہوں، انہیں محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*صحيح البخاري:(رقم الحدیث:5950)*
حدثنا الحميدي: حدثنا سفيان: حدثنا الأعمش، عن مسلم قال: كنا مع مسروق في دار يسار بن نمير فرأى في صفته تماثيل، فقال: سمعت عبد الله قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: إن أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة المصورون.
*المحيط البرهاني:(5/ 335،ط:دار الكتب العلمية)*
أن مواضع الضرورة مستثناة عن قواعد الشرع
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی