resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بریانی کی دکان پر پیپسی (pepsi) رکھنے یا گاہک کے مطالبے پر دوسری دکان سے منگوانے کا حکم

(57384-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! میرے شوہر نے پچھلے مہینے بریانی کی دکان کھولی تھی، ہم نے یہ سوچا تھا کہ پیپسی یا کوئی اور بائیکاٹ چیز نہیں رکھیں گے، لیکن گاہک پیپسی کی ہی ڈیمانڈ کرتا ہے اور ہمیں دوسری دکان سے لا کر دینی پڑتی۔ ویسے بھی دکان نقصان میں جا رہی ہے اپنا خرچہ نہیں نکال پا رہی اور اس طرف سے بھی نقصان ہو رہا ہے تو کیا ہم پیپسی وغیرہ رکھ لیں؟ نیت کچھ اور کی تھی اب اگر رکھیں گے تو کوئی حرج تو نہیں؟

جواب: واضح رہے کہ انٹرنیٹ کے کچھ ذرائع کے مطابق پیپسی بنانے والی کمپنی ایک امریکی کمپنی ہے، لیکن اس کمپنی نے اسرائیل میں سرمایہ کاری اور اس کے ساتھ تجارتی معاہدات کیے ہوئے ہیں، جس کے ذریعے اسرائیل کی معیشت اور مسلمانوں کے خلاف اس کے مستحکم ہونے کو ایک طرح سے تقویت ملنا ظاہر ہے، لہٰذا پیپسی دکان میں رکھنا یا گاہک کے مطالبے پر دوسری دکان سے مہیا کرنا غیرتِ ایمانی کے خلاف ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس عمل سے مسلمانوں پر یہودیوں کی طرف سے ہونے والے مظالم میں کسی نہ کسی درجے میں ان کی معاونت کی صورت بن رہی ہے، اس لیے گاہک سے اس سلسلے میں مناسب انداز سے معذرت کر لینی چاہیے۔ امید ہے کہ آپ کے اس عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں بہترین بدلے سے نوازے گا۔ تاہم اگر پیپسی دکان میں رکھ لی جائے تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو حرام نہیں کہا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (المائدة، الآية: 2)
وَ تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی ۪ وَ لَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ... الخ

و قوله تعالی: (هود، الآية: 113)
وَ لَا تَرۡکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ... الخ

التفسير المظهري: (123/5، ط: مكتبة الرشيدية)
ولا تركنوا إلى الذين ظلموا قال ابن عباس اى لا تميلوا والركون المحبة والميل بالقلب. وقال ابو العالية لا ترضوا بأعمالهم. وقال السدى لا تداهنوا الظلمة. وقال عكرمة لا تطيعوهم. وقيل لا تسكنوا الى الذين ظلموا قال البيضاوي لا تميلوا إليهم ادنى ميل فان الركون هو الميل اليسير كالتزين بزيهم وتعظيم ذكرهم فتمسكم النار بركونكم إليهم. قال البيضاوي وإذا كان الركون الى الظالمين كذلك فما ظنك بالميل كل الميل إليهم.

الدر المختار مع رد المحتار: (268/4، ط: دار الفكر)
(ويكره) تحريما (بيع السلاح من أهل الفتنة إن علم) لأنه إعانة على المعصية (وبيع ما يتخذ منه كالحديد) ونحوه يكره لأهل الحرب (لا) لأهل البغي لعدم تفرغهم لعمله سلاحا لقرب زوالهم، بخلاف أهل الحرب زيلعي.
قلت: وأفاد كلامهم أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما وإلا فتنزيها نهر.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things