resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: میت کو تابوت سمیت دفن کرنے کا حکم

(45180-No)

سوال:
۱) ہمارے یہاں England میں علماء کرام کی محنتوں کی برکت سے یہ اجازت مل گئی ہے کہ میت کو تابوت کے بغیر سنت طریقہ سے دفنا سکتے ہیں لیکن اس کے با وجود یہ دیکھا گیا ہے کہ کافی حضرات تابوت کے ساتھ بلا ضرورت دفناتے ہیں، اس کا حکم کیا ہے؟ کیا لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کرنا چاہئے یا بلا ضرورت تابوت میں دفنانے کی گنجائش ہے؟
۲) اگر بارش یا مٹی کی کیفیت کی وجہ سے ضرورت پڑ جائے اور میت کو تابوت میں دفنائے تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ اور اگر اس کی نوبت آ جائے تو اس کی بہترین شکل کیا ہوگی؟ جزاکم اللہ

جواب: واضح رہے کہ مسلمانوں کے لیے میت کو دفن کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ میت کو کفن دے کر قبر میں زمین پر رکھا جائے اور تختے لگا کر اس پر مٹی ڈال دی جائے، عام حالات میں تابوت یا صندوق میں بند کرکے دفن کرنا مسلمانوں کا طریقہ نہیں، بلکہ عیسائیوں کا شعار ہے، اس لیے بلا ضرورت تابوت میں دفن کرنے سے بچنا چاہیے، البتہ اگر کوئی عذر یا ضرورت ہو، مثلاً: زمین گیلی ہو یا اتنی نرم ہو کہ قبر کے جلدی بیٹھ جانے کا اندیشہ ہو یا کوئی اور مجبوری درپیش ہو تو میت کو لکڑی کے صندوق میں رکھ کر دفن کرنا جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*رد المحتار: (باب صلاة الجنائز، 234/2، ط: دار الفکر)*
ولم يحتج إلى التابوت، إلا إن كانت الأرض ندية يسرع فيها بلى الميت قال في الحلية عن الغاية: ويكون التابوت من رأس المال إذا كانت الأرض رخوة أو ندية مع كون التابوت في غيرها مكروها في قول العلماء قاطبة.
(قوله: ولا بأس باتخاذ تابوت إلخ) أي يرخص ذلك عند الحاجة، وإلا كره.

*کفایت المفتی: (487/5، ط: ادارۃ الفاروق)*

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Funeral & Jinaza