سوال:
مجھے میرے شوہر نے شادی کے کچھ عرصے کے بعد ہی طرح طرح پریشان کرنا شروع کر دیا، کبھی مطالبہ کرتا کہ اپنے والدین سے رقم منگوا کر دو، کبھی مارتا پیٹتا اور کبھی مجھے اپنے میکے چھوڑ کر چلا جاتا۔
میرے گھر والوں نے اس سے کئی بار بات کرنے کی کوشش کی لیکن یہ کبھی بات کرنے پر آمادہ نہ ہوا اور اپنا رویہ بھی ٹھیک نہیں کیا، تنگ آکر میرے گھر والوں نے اور میں نے اپنے شوہر کے خلاف خلع کا کیس دائر کیا، تقریبا 11 مہینوں تک اس کو کورٹ نے نوٹس کے ذریعے بلایا، لیکن یہ شوہر ایک مرتبہ کوٹ کے سامنے پیش ہوا اور اپنے بیان میں یہ کہا کہ میں اپنی بیوی کو رکھنا چاہتا ہوں، لیکن اس بیان کے بعد اور اس سے پہلے شوہر دوبارہ کبھی کوٹ میں نہیں آیا اور نہ ہی مجھ سے رابطہ کرتا ہے، جبکہ میں نے کیس کرنے سے پہلے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی، میرا شوہر آوارہ عورتوں کے ساتھ ویڈیو بنا کر میرے پاس بھیجتا ہے، لیکن مجھے رکھنے یا صلح کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، آخر میں کورٹ نے ہمارے درمیان خلع کا فیصلہ سنا دیا اور خلع کی ڈگری جولائی کے آخر میں جاری کرنے کا کہا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کورٹ کے اس فیصلے کی روشنی میں خلع یا طلاق ہو گئی ہے یا نہیں؟
میں فیصلے والے دن سے عدت پوری کر کے کسی اور جگہ شادی کر سکتی ہوں یا نہیں؟
اور اگر طلاق یا خلع نہیں ہوا تو پھر اس قسم کے شوہر سے جان چھڑوانے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟ تاکہ میں دوسرا نکاح کر کے پر سکون زندگی گزار سکوں، جواب دے کر مشکور فرمائیں۔
جواب: واضح رہے کہ "میں نے اسے فارغ کردیا" طلاق کے کنائی الفاظ میں سے ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ اگر یہ الفاظ غصّے کی حالت میں یا طلاق کی گفتگو کے دوران بولے جائیں تو ان سے ایک طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے اور ایک طلاق بائن واقع ہونے کے بعد دوسری طلاق کا محل باقی نہیں رہتا۔
لہٰذا جب شوہرںنے پہلی مرتبہ یہ الفاظ کہے تو بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی، اس کے بعد دوبارہ "فارغ کردیا" کے الفاظ دو یا تین مرتبہ استعمال کیے تو اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، اس لیے اگر میاں بیوی ایک دوسرے سے رجوع کرنا چاہتے ہیں تو وہ نئے حق مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کرسکتے ہیں۔
تاہم شوہر کو آئندہ اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے اور شوہر کو آئندہ کے لیے دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار مع رد المحتار: (438/3، ط: دار الفكر)
طلقها واحدة ثم قال: أنت علي حرام ناويا اثنين تقع واحدة كرره مرتين. وقال ابن عابدين تحته: (قوله: تقع واحدة) كذا في الذخيرة والبزازية. ووجهه أنه عبارة عن تكرير هذا اللفظ ألف مرة وهو لو كرره لا يقع إلا الأول لأن البائن لا يلحق البائن.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی