سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں اپنے اور اپنی اہلیہ کے درمیان پیش آنے والے ایک واقعے کے بارے میں فقہ حنفی کے مطابق شرعی رہنمائی چاہتا ہوں۔
پس منظر: گزشتہ چند ہفتوں سے ہمارے درمیان کچھ گھریلو اختلافات چل رہے تھے، واقعے والے دن میری اہلیہ اور میرے درمیان ان کے موبائل فون کے حوالے سے بات ہوئی۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے ان کا فون دکھائیں، فون پر پاس ورڈ لگا ہوا تھا، انہوں نے پاس ورڈ کھول کر فون مجھے دے دیا، لیکن وہ میرے ساتھ کھڑی رہیں اور دیکھتی رہیں کہ میں کیا چیک کر رہا ہوں۔ اس پر مجھے غصہ آیا، میں نے فون واپس رکھ دیا اور کہا کہ اپنا فون اپنے پاس رکھیں۔
اس پر میری اہلیہ نے تقریباً یہ الفاظ کہے: "اسلام مجھے پرائیویسی کا حق دیتا ہے، تم کون ہوتے ہو میرا فون چیک کرنے والے؟"
یہ سن کر مجھے غصہ آیا اور میں نے درج ذیل الفاظ کہے:
"اگر تم مجھے اسی طرح ٹریٹ کرتی رہیں اور یہی رویہ برقرار رکھا تو میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں اور جب میں واپس آؤں تو مجھے تم نظر نہ آؤ اور نہ یہاں سے کچھ لے کر جانا۔"
اس وقت میری کیفیت درج ذیل تھی:
میری اہلیہ میرے سامنے موجود تھیں اور انہوں نے یہ الفاظ خود سنے۔
مجھے شدید غصہ تھا، لیکن مجھے پورا شعور تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔
میں نشے کی حالت میں نہیں تھا۔
مجھے اپنے الفاظ اور ان کے معنی کا مکمل ادراک تھا۔
میری سمجھ کے مطابق میں یہ بات ان کے اسی رویے اور طرزِ عمل کے جاری رہنے کے تناظر میں کہہ رہا تھا۔
میرا تعلق اہلِ حدیث مکتبۂ فکر سے ہے اور میرا ہمیشہ سے یہ عقیدہ رہا ہے کہ ایک مجلس میں تین مرتبہ طلاق دینے سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے، جب تک شوہر رجوع نہ کر لے۔ میری نیت صرف ایک طلاق دینے کی تھی تاکہ وہ کچھ عرصہ اپنے گھر والوں کے پاس رہیں اور میری اہمیت کو محسوس کریں۔ براہِ کرم درج ذیل امور کے بارے میں فقہ حنفی کے مطابق رہنمائی فرمائیں:
1) کیا مذکورہ صورت میں کوئی طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
2) اگر طلاق واقع ہوئی تو کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟
3) کیا مذکورہ الفاظ فوری (منجز) طلاق شمار ہوں گے یا یہ معلق (شرط کے ساتھ) طلاق ہے؟
جزاکم اللہ خیراً
جواب: (1) اگر شوہر کے اس جملے: "اگر تم مجھے اسی طرح ٹریٹ کرتی رہیں اور یہی رویہ برقرار رکھا تو..." سے مراد ابھی (حال میں) طلاق دینا تھا تو پوچھی گئی صورت میں تینوں طلاقیں اسی وقت واقع ہو چکی ہیں۔ فقہِ حنفی کے مطابق جب عاقل، بالغ اور ہوش و حواس میں موجود شوہر صریح الفاظِ طلاق زبان سے ادا کر دے تو طلاق فوراً واقع ہو جاتی ہے، خواہ وہ غصے کی حالت میں ہی کیوں نہ ہو، بشرطیکہ اس کا شعور اور ادراک باقی ہو۔ جیسا کہ آپ نے خود صراحت کی ہے کہ آپ کو اپنے الفاظ اور ان کے معانی کا مکمل ادراک تھا اور آپ نشے کی حالت میں بھی نہیں تھے، لہٰذا اگر مذکورہ الفاظ سے موجودہ وقت میں طلاق دینا مقصود تھا تو تینوں طلاقیں اسی وقت واقع ہو گئی ہیں۔ نیز غصے میں دی گئی طلاق بھی فقہِ حنفی میں معتبر اور نافذ ہوتی ہے، بلکہ طلاق عموماً غصے ہی کی حالت میں دی جاتی ہے۔
(2) فقہِ حنفی کے مطابق ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقیں ایک نہیں بلکہ تین ہی واقع ہوتی ہیں، خواہ شوہر کی نیت ایک طلاق کی ہو یا تین کی، اور خواہ اس کا تعلق کسی بھی مکتبۂ فکر سے ہو۔ یہی موقف قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے تعامل، ائمۂ اربعہ، صحاحِ ستہ کے مصنفین رحمہم اللہ سے ثابت ہے۔ جو حضرات بعض دیگر احادیث سے استدلال کرتے ہوئے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک قرار دیتے ہیں، جمہورِ امّت کے نزدیک ان کا استدلال صحیح مفہوم پر مبنی نہیں، کیونکہ وہ ان روایات کا ایسا مفہوم لیتے ہیں جو قرآنِ کریم، کثیر احادیث، آثارِ صحابہ اور جمہورِ امت کے مسلک کے خلاف ہے۔
لہٰذا راجح اور مفتیٰ بہ قول یہی ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی واقع ہوتی ہیں، اور تین طلاقیں واقع ہونے کے بعد نکاح فوراً ختم ہو جاتا ہے، میاں بیوی ایک دوسرے پر حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہو جاتے ہیں، رجوع اور نئے نکاح کا حق باقی نہیں رہتا۔ دوبارہ نکاح اسی وقت ممکن ہے جب قرآن و حدیث میں مذکور شرعی صورت پیش آئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ)، اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: (حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ) لہٰذا اگر تین طلاقیں واقع ہو جائیں تو اس کے بعدمذکور شرعی طریقے کے بغیر دوبارہ نکاح جائز نہیں ہوگا۔
(3) اگر شوہر کے الفاظ: "اگر تم مجھے اسی طرح ٹریٹ کرتی رہیں اور یہی رویہ برقرار رکھا تو..." سے مراد موجودہ وقت میں طلاق دینا نہ ہو، بلکہ آئندہ اسی طرزِ عمل کے برقرار رہنے پر طلاق کو معلق کرنا ہو تو فقہِ حنفی کے مطابق یہ طلاقِ معلق ہوگی۔ ایسی صورت میں جب تک مستقبل میں شرط پوری نہ ہو، کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی؛ البتہ جیسے ہی اس مجلس کے بعد پہلی مرتبہ وہ شرط پائی جائے گی، اسی وقت تینوں طلاقیں ایک ساتھ واقع ہو جائیں گی اور نکاح حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ ختم ہو جائے گا۔
لہٰذا شوہر پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے، اپنی قبر و آخرت کو سامنے رکھ کر اپنے دل کی حقیقی نیت اور مقصود کے مطابق فیصلہ کرے، اگر فی الواقع اس کی مراد اسی وقت طلاق دینا تھی تو محض کسی مفتی کے اس کے خلاف فتویٰ دینے سے بیوی اس کے لیے حلال نہیں ہو جائے گی، بلکہ اگر وہ اس کے باوجود ازدواجی تعلق قائم رکھے گا تو دونوں اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہ ہوں گے، اس لیے اس معاملے میں انتہائی دیانت، تقویٰ اور خوفِ خدا کے ساتھ حقیقتِ حال کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ضروری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (البقرة، الایة: 230)
’’فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ ۭ... الخ
أحكام القرآن للجصاص: (415/5، ط: دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)
قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} منتظم لمعان: منها تحريمها على المطلق ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره، مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعا; لأن النكاح هو الوطء في الحقيقة، وذكر الزوج يفيد العقد، وهذا من الإيجاز واقتصار على الكناية المفهمة المغنية عن التصريح. وقد وردت عن النبي صلى الله عليه وسلم أخبار مستفيضة في أنها لا تحل للأول حتى يطأها الثاني، منها حديث الزهري عن عروة عن عائشة: أن رفاعة القرظي طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، فجاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا نبي الله إنها كانت تحت رفاعة فطلقها آخر ثلاث تطليقات فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وإنه يا رسول الله ما معه إلا مثل هدبة الثوب فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: "لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك".
الفتاوى الهندية: (196/10، ط: دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .أما الإنزال فليس بشرط للإحلال.
الدرالمختار: (کتاب الطلاق، 233،232/3)
’’(والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين) في طهر واحد (لا رجعة فيه، أو واحدة في طهر وطئت فيه، أو) واحدة في (حيض موطوءة)۔‘‘
رد المحتار: (233/3، ط۔: سعید)
’’وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث۔۔۔۔أما أولا فإجماعهم ظاهر لأنه لم ينقل عن أحد منهم أنه خالف عمر حين أمضى الثلاث، ولا يلزم في نقل الحكم الإجماعي عن مائة ألف تسمية كل في مجلد كبير لحكم واحد على أنه إجماع سكوتي. وأما ثانيا فالعبرة في نقل الإجماع نقل ما عن المجتهدين والمائة ألف لا يبلغ عدة المجتهدين الفقهاء منهم أكثر من عشرين كالخلفاء والعبادلة وزيد بن ثابت ومعاذ بن جبل وأنس وأبي هريرة، والباقون يرجعون إليهم ويستفتون منهم وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف - {فماذا بعد الحق إلا الضلال} [يونس: 32]- وعن هذا قلنا لو حكم حاكم بأنها واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ الاجتهاد فيه فهو خلاف لا اختلاف۔‘‘
تبيين الحقائق: (5/3، ط: المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة)
واذا اضافه الی شرط وقع عقیب الشرط مثل ان یقول لا مرأته ان دخلت فانت طالق.
الفتاوى الهندية: (420/1، ط: دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)
ولو قال: إن دخلت الدار أنت طالق يقع الطلاق للحال إلا إذا قال عنيت به التعليق فحينئذ يدين فيما بينه وبين الله - تعالى - ولا يدين في القضاء.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی