عنوان: کسی کی تحریر کو اپنے نام سے شائع کرنا(4531-No)

سوال: مفتی صاحب ! میں ایک اسکول میں ملازمت کرتا ہوں اور پڑهانے کیلیے اپنی محنت سے اپنے نوٹس تیار کرتا ہوں، جس میں میرا ذاتی تجربہ اور مضمون کی مہارت بهی شامل ہوتی ہے، یہ نوٹس میں بچوں کو معاوضہ پر فروخت کرتا ہوں، جس کا علم انتظامیہ کو بهی ہے۔
اب اس سال انتظامیہ کا اصرار ہے کہ آپ اپنا سارا تحریری مواد ہمیں دے دیں، ہم اس میں اپنا نام بهی شامل کر کے بچوں کو فروخت کریں گے اور اس میں میرا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔
میں دینا نہیں چاہتا ہوں، کیونکہ اس میں میری ذاتی محنت اور مہارت شامل ہے، لیکن اگر نہیں دیتا تو انتظامیہ کی ناراضگی یا نوکری سے نکالے جانے کا خطرہ ہے، اس تناظر میں سوال یہ ہے کہ کیا انتظامیہ کا یہ عمل درست ہے؟

جواب: واضح رہے کہ آپ کی انتظامیہ کا یہ عمل کسی طور درست نہیں ہے، اسلامی نقطہ نظر سے کسی کی تحریر کو بعینہٖ اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا شرعاً اور اخلاقاً صحیح نہیں ہے، کیونکہ کسی دوسرے کی تحریر بعینہٖ لے کر اپنے نام سے منسوب کرنا دھوکہ ہونے کے ساتھ ساتھ (معنوی) چوری کے حکم میں ہے۔
البتہ صورت مسؤلہ میں اگر انتظامیہ ان نوٹس میں آپ کا حوالہ دیتی ہے، اور آپ کی اجازت سے ان نوٹس کو فروخت کرتی ہے، تو ان کے لئے نوٹس فروخت کرنا جائز ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بذل المجھود: (316/10)
عن أسمر بن مضرس قال : أتیت النبي ﷺ فبایعتہ فقال : ’’من سبق إلی ما لم یسبقہ إلیہ مسلم فہو لہ ‘‘ ۔ وفي نسخۃ : ’’ إلی ما لم یسبقہ ‘‘ ۔

بحوث قضایا فقھیۃ معاصرۃ: (بیع الحقوق المجردۃ، 116/1، ط: معارف القرآن)
وإن کان العلامۃ المناوي رحمہ اللّٰہ تعالیٰ رجّح أن ہٰذا الحدیث وارد في سیاق إحیاء الموات، ولکنہ نقل عن بعض العلماء أنہ یشمل کل عین وبئر ومعدن، ومن سبق لشيء منہا، فہي لہ، ولا شک أن العبرۃ لعموم اللفظ لا لخصوص السبب۔

الفقہ الاسلامی و ادلتہ: (حق التالیف و النشر و التوزیع، 286/4، ط: رشیدیة)
والمؤلف قد بذل جہدًا کبیرًا في إعداد مؤلفہ، فیکون أحق الناس بہ، سواء فیما یمثل الجانب المادّي وہو الفائدۃ التي یستفیدہا من علمہ، أو الجانب المعنوي وہو نسبۃ العمل إلیہ.

قواعد الفقہ: (ص: 110، ط: مکتبة اشرفیة)
لا یجوز لأحد أن یتصرف في ملک الغیر بغیر إذنہ۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 820 Jun 16, 2020
kisi ki tehreer ko apnay naam / name say / sai shaaye karna, Publish someone's writing by / under your own name

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.