عنوان: انشورنس کمپنی میں کام کرنے کا حکم(4579-No)

سوال: مفتی صاحب ! کسی انشورنس کمپنی میں کام کرنا کیسا ہے؟

جواب: انشورنس کمپنی کا کام سود اور قمار (جوا) پر مشتمل ہوتا ہے، جو کہ شرعاً ناجائز وحرام ہے، اس لئے انشورنس کمپنی میں ایسی ملازمت کرنا جس میں براہ راست سودی لین دین، سودی کاموں کی لکھت پڑھت، یا دیگر سودی امور پر تعاون کرنا پڑے، جائز نہیں ہے، البتہ انشورنس کمپنی میں ایسی ملازمت کرنا، جس میں سود کے لین دین اور کتابت وغیرہ میں براہ راست مصروفیت نہ ہو، مثلاً: چوکیداری وغیرہ، تو ایسی ملازمت کرنے کی گنجائش ہے، لیکن بچنا پھر بھی بہتر ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (البقرة، الایة: 275)
اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ....الخ

و قوله تعالی: (المائدة، الایة: 90)
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ....الخ

و قوله تعالی: (المائدة، الایة: 20)
ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان....الخ

صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 4093)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ»، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ»

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1433 Jun 18, 2020
insurance company mai kaam karne ka hukum, Ruling on / Order to work in an insurance company

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.