سوال:
میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اسلام کی رو سے کیا اس بات کی کوئی مستند دلیل موجود ہے کہ بعض لوگ جنات کو اپنے قابو میں کر لیتے ہیں اور ان سے مختلف کام کرواتے ہیں؟ اس بارے میں قرآنِ کریم اور صحیح احادیث کیا رہنمائی کرتی ہیں؟ نیز عام مسلمانوں کو ایسے دعوؤں کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟
جواب: میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اسلام کی رو سے کیا اس بات کی کوئی مستند دلیل اسلامی عقائد اور شریعتِ مطہّرہ کی روشنی میں جنّات کا وجود برحق ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ایک مستقل مخلوق ہیں، تاہم جنّات کو مکمل طور پر تابع اور مسخر کر لینا، ان سے مختلف خدمات لینا اور انہیں اپنے حکم کا پابند بنا دینا حضرت سلیمان علیہ السلام کا خصوصی معجزہ تھا، جس کا ذکر قرآنِ کریم میں ان کی اس دعا کے ضمن میں آیا ہے: ﴿قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي﴾ (سورۃ ص: 35)۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے بھی ایک سرکش جن پر قابو پانے کے باوجود حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کا لحاظ کرتے ہوئے اسے باندھنے سے گریز فرمایا، جیسا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات میں مذکور ہے۔
لہٰذا آج کے دور میں کسی شخص، عامل یا پیر کا جنّات کو اپنے قبضے میں رکھنے یا ان سے کام لینے کا دعویٰ شرعاً قابلِ اعتماد نہیں؛ اکثر ایسے دعوے محض دھوکا، فریب اور شعبدہ بازی پر مبنی ہوتے ہیں، جبکہ اگر کسی صورت میں جنات سے حقیقی تعلق پایا بھی جائے تو عموماً وہ جادو، شرکیہ اعمال یا دیگر ناجائز امور کے ذریعے ہوتا ہے، جو سخت حرام بلکہ بعض اوقات کفر تک پہنچانے والے اعمال ہیں۔
قرآنِ کریم نے بھی انسانوں کے جنّات سے مدد طلب کرنے کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا﴾ (سورۃ الجن: 6)۔ اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ایسے عاملوں، نجومیوں اور غیب دانی کے دعوے کرنے والوں سے مکمل اجتناب کریں، نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کو سمجھیں، اور اپنی حفاظت و علاج کے لیے سورۃ البقرہ، آیۃ الکرسی، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس جیسی مسنون قرآنی اذکار اور دعاؤں کا اہتمام کریں۔
خلاصہ یہ ہے کہ جنّات کو تابع بنانے یا ان سے غیبی خدمات حاصل کرنے کا دعویٰ شرعاً ناجائز، گمراہ کن اور خطرناک ہے، جبکہ ایک مسلمان کا صحیح راستہ توحید پر کامل اعتماد اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
*القرآن الكريم: (سورة ص، الآية: 35)*
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ [ص: 35]
*تفسير ابن كثير ت سلامة: (7/ 70، دار طيبة للنشر والتوزيع)*
الصحيح أنه سأل من الله تعالى ملكا لا يكون لأحد من بعده من البشر مثله، وهذا هو ظاهر السياق من الآية وبه (7) وردت الأحاديث الصحيحة من طرق عن رسول الله صلى الله عليه وسلم.
قال (8) البخاري عند تفسير هذه الآية: حدثنا إسحاق بن إبراهيم أخبرنا روح ومحمد بن جعفر عن شعبة عن محمد بن زياد (9) عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إن عفريتا من الجن تفلت علي البارحة -أو كلمة نحوها-ليقطع علي الصلاة فأمكنني الله منه وأردت أن أربطه إلى سارية من سواري المسجد حتى تصبحوا وتنظروا إليه كلكم فذكرت قول أخي سليمان: {رب اغفر لي وهب لي ملكا لا ينبغي لأحد من بعدي} قال روح: فرده خاسئا وكذا رواه مسلم والنسائي من حديث شعبة به
وقال مسلم في صحيحه: حدثنا محمد بن سلمة المرادي حدثنا عبد الله بن وهب عن معاوية بن صالح حدثني ربيعة بن يزيد عن أبي إدريس الخولاني عن أبي الدرداء قال: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي فسمعناه يقول: "أعوذ بالله منك". ثم قال: "ألعنك بلعنة الله" -ثلاثا-وبسط يده كأنه يتناول شيئا فلما فرغ من الصلاة قلنا: يا رسول الله، قد سمعناك تقول في الصلاة شيئا لم نسمعك تقوله قبل ذلك ورأيناك بسطت يدك؟ قال: "إن عدو الله إبليس جاء بشهاب من نار ليجعله في وجهي فقلت: أعوذ بالله منك -ثلاث مرات-ثم قلت: ألعنك بلعنة الله التامة. فلم يستأخر ثلاث مرات ثم أردت أخذه والله لولا دعوة أخينا سليمان لأصبح موثقا يلعب به صبيان أهل المدينة"
وقال الإمام أحمد: حدثنا أبو أحمد حدثنا ميسرة بن معبد حدثنا أبو عبيد حاجب سليمان قال: رأيت عطاء بن يزيد الليثي قائما يصلي، فذهبت أمر بين يديه فردني ثم قال حدثني أبو سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قام يصلي صلاة الصبح وهو خلفه فقرأ فالتبست عليه القراءة فلما فرغ من صلاته قال: "لو رأيتموني وإبليس فأهويت بيدي فما زلت أخنقه حتى وجدت برد لعابه بين أصبعي هاتين -الإبهام والتي تليها-ولولا دعوة أخي سليمان لأصبح مربوطا بسارية من سواري المسجد، يتلاعب به صبيان المدينة فمن استطاع منكم ألا يحول بينه وبين القبلة أحد فليفعل".
*القرآن الكريم: (سورة الجن، الآية: 6)*
وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا
*صحيح البخاري، (93/1)*
إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ البَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلاَةَ، فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي المَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ: رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لاَ يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي، فَرَدَّهُ خَاسِئًا.
*فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن حجر العسقلاني: (461/16)*
وَفِي الْحَدِيثِ إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّ تَسْخِيرَ الْجِنِّ كَانَ مِنْ خَصَائِصِ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ.
*مجموع الفتاوى لشيخ الإسلام ابن تيمية: (295/11)*
وَأَمَّا مَنْ اسْتَخْدَمَ الْجِنَّ فِي أُمُورٍ مُحَرَّمَةٍ كَالشِّرْكِ، وَقَتْلِ الْمَعْصُومِ، وَالْعُدْوَانِ عَلَى النَّاسِ فَهُوَ مُسْتَعِينٌ بِهِمْ عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ.
*الموسوعة الفقهية الكويتية: (18/14)*
وَلاَ يَجُوزُ الاِسْتِعَانَةُ بِالْجِنِّ فِي مَعْرِفَةِ الْمُغَيَّبَاتِ وَنَحْوِهَا، لأِنَّهُ طَرِيقٌ إِلَى الشِّرْكِ.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی