سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب! امید ہے کہ آپ حضرات خیریت سے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و عافیت سے نوازے اور دینِ اسلام کی خدمت میں آپ کی کاوشوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔
میں نے حال ہی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سیرتِ مبارکہ، آپ کے فضائل اور آپ کی زندگی سے حاصل ہونے والے اسباق کو عام کرنے کی غرض سے ایک ڈاکیومنٹری تیار کی ہے۔ اسے وسیع پیمانے پر شائع کرنے سے قبل میری دلی خواہش ہے کہ یہ مکمل طور پر اسلامی تعلیمات اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ادب و احترام کے تقاضوں کے مطابق ہو۔
اس ڈاکیومنٹری کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
1) اس میں صرف انسانی آواز کے ذریعے بیانیہ (Narration) پیش کیا گیا ہے۔
2) حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چہرۂ مبارک کی کسی قسم کی عکاسی نہیں کی گئی، بلکہ صرف علامتی مناظر استعمال کیے گئے ہیں جن میں چہرہ مکمل طور پر پوشیدہ رکھا گیا ہے۔
3) حتیٰ المقدور تمام معلومات مستند اسلامی مراجع سے اخذ کی گئی ہیں۔
4) اس کا مقصد صرف تعلیم و آگاہی فراہم کرنا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت، عظمت اور احترام کو فروغ دینا ہے۔
اس ڈاکیومنٹری کی تیاری کا ایک اہم مقصد نئی نسل کو اسلام کے حقیقی ہیروز اور عظیم شخصیات سے دوبارہ جوڑنا بھی تھا۔ آج بہت سے بچے اور نوجوان ہماری اسلامی تاریخ کی جلیل القدر ہستیوں کے مقابلے میں خیالی کرداروں، جیسے اسپائیڈر مین اور سپرمین سے زیادہ واقف ہیں۔ اگرچہ ان عظیم اسلامی شخصیات کی حیاتِ مبارکہ مستند کتابوں میں محفوظ ہے، لیکن موجودہ دور میں نوجوان نسل بصری ذرائع (Visual Media) سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔
اسی مقصد کے پیشِ نظر میں نے کوشش کی ہے کہ اس ڈاکیومنٹری کو جدید دور کے ناظرین کے لیے مؤثر اور دل چسپ انداز میں پیش کیا جائے، تاہم اس بات کا بھرپور اہتمام کیا گیا ہے کہ تمام اسلامی اقدار، ادب و احترام اور وقار کو ملحوظ رکھا جائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چہرۂ مبارک کی کسی قسم کی عکاسی نہیں کی گئی، بلکہ تمام مواد حتیٰ المقدور مستند مراجع سے اخذ کیا گیا ہے۔
میری نیت صرف یہ ہے کہ لوگوں کو اسلام کی ان عظیم اور حقیقی مثالی شخصیات سے روشناس کرایا جائے، ان کی محبت اور اتباع کا جذبہ پیدا ہو، اور اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔
میں مؤدبانہ گزارش کرتا ہوں کہ ازراہِ کرم اس طریقۂ کار کا جائزہ لے کر رہنمائی فرمائیں کہ آیا اس نوعیت کی ڈاکیومنٹری اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جائز ہے یا نہیں؟ نیز اگر اس میں کوئی ایسا پہلو موجود ہو جس کی اصلاح یا اجتناب ضروری ہو تو براہِ کرم اس سے بھی آگاہ فرمائیں۔
آپ کی مخلصانہ رہنمائی میرے لیے نہایت قیمتی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے وقت، علم اور دینی خدمات کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ ذیل میں ڈاکومنٹری کی لنک شیئر کی جارہی ہے، اس کو ملاحظہ فرماکر رہنمائی فرمادیں۔https://youtu.be/h9RM4baKGmg
جواب: مذکورہ تاریخی و تعلیمی ڈاکومنٹری کا شرعی اصولوں کی روشنی میں جائزہ لینے کے بعد یہ واضح ہوتا ہے کہ دورِ حاضر میں نئی نسل کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی سیرت اور اسلامی تاریخ سے روشناس کرانے کا جذبہ اور اس کے لیے مستند تاریخی مراجع کا انتخاب یقیناً لائقِ تحسین اور وقت کی اہم ضرورت ہے؛ تاہم شرعی نقطۂ نظر سے جلیل القدر صحابہ کرامؓ (بالخصوص خلفائے راشدینؓ) کی کسی بھی درجے میں جسمانی تمثیل، عکاسی یا گرافیکل خدوخال (Graphical features) کے ذریعے کردار کشی کرنا (اگرچہ چہرہ چھپا کر نورانی ہالے ہی سے کیوں نہ ہو) شرعاً ممنوع اور ان کے مقامِ بلند کے منافی ہے، نیز پسِ منظر میں سینیمیٹک (Cinematic) یا ڈیجیٹل آلاتِ موسیقی (Digital musical instruments) کا استعمال بھی ناجائز ہے۔
لہٰذا اگر اس کاوش کو صدقۂ جاریہ اور شرعاً مقبول بنانا مقصود ہے تو اس پراجیکٹ سے صحابہ کرامؓ کی جسمانی حرکات و سکنات کی گرافیکل عکاسی (Graphical representation) کو مکمل طور پر حذف کر کے صرف تاریخی اشیاء و مقامات کی نمائش پر اکتفا کیا جائے، اور پسِ منظر سے میوزک کو ختم کر کے اس کی جگہ صرف انسانی بیانیہ (Narration) اور قدرتی صوتی اثرات (Natural SFX) جیسے تلواروں کی جھنکار یا گھوڑوں کی ٹاپ وغیرہ کا استعمال کیا جائے تو ان شرعی متبادلات کی شمولیت کے بعد اس تعلیمی و تدریسی ڈاکومنٹری کی نشر و اشاعت اور اس سے نفع اٹھانا جائز ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
قرار المجمع الفقهي الإسلامي في حكم تمثيل الأنبياء والصحابة: (27/صفر/1432 الموافق 31/يناير/2011107,695)
فإن المجمع الفقهي الإسلامي برابطة العالم الإسلامي في دورته العشرين المنعقدة بمكة المكرمة، في الفترة من 19-23 محرم 1432ه التي يوافقها:25-29 ديسمبر 2010م لاحظ استمرار بعض شركات الإنتاج السينمائي في إعداد أفلام ومسلسلات فيها تمثيل أشخاص الأنبياء والصحابة فأصدر البيان التالي:
الجواب
الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله، وبعد:
تأكيداً لقرار المجمع في دورته الثامنة المنعقدة عام 1405ه الصادر في هذا الشأن، المتضمن تحريم تصوير النبي محمد صلى الله عليه وسلم وسائر الرسل والأنبياء عليهم السلام والصحابة رضي الله عنهم، ووجوب منع ذلك.
ونظراً لاستمرار بعض شركات الإنتاج السينمائي في إخراج أفلام ومسلسلات تمثل أشخاص الأنبياء والصحابة، فإن المجمع يؤكد على قراره السابق في تحريم إنتاج هذه الأفلام والمسلسلات، وترويجها والدعاية لها واقتنائها ومشاهدتها والإسهام فيها وعرضها في القنوات ، لأن ذلك قد يكون مدعاة إلى انتقاصهم والحط من قدرهم وكرامتهم، وذريعة إلى السخرية منهم، والاستهزاء بهم.
ولا مبرر لمن يدعي أن في تلك المسلسلات التمثيلية والأفلام السينمائية التعرف عليهم وعلى سيرتهم؛ لأن كتاب الله قد كفى وشفى في ذلك قال تعالى:"نحن نقص عليك أحسن القصص بما أوحينا إليك هذا القرآن" [يوسف:3] وقال تعالى:"لقد كان في قصصهم عبرة لأولي الألباب ما كان حديثا يفترى ولكن تصديق الذي بين يديه وتفصيل كل شيء وهدى ورحمة لقوم يؤمنون"[يوسف: 111]
ويذكر المجمع بقرار هيئة كبار العلماء، وفتوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء في المملكة العربية السعودية، وفتوى مجمع البحوث الإسلامية في القاهرة، وغيرها من الهيئات والمجامع الإسلامية في أقطار العالم التي أجمعت على تحريم تمثيل أشخاص الأنبياء والرسل عليهم السلام مما لا يدع مجالاً للاجتهادات الفردية، كما يذكر بما صدر عن الرابطة في 16/11/1431ه.
ومن المعلوم من الدين بالضرورة أن الله تعالى فضل الأنبياء والرسل على غيرهم من العالمين، كما قال تعالى في محكم كتابه الكريم:"وَتلك حجتنا آتيناها إبراهيم على قومه نرفع درجات من نشاء إن ربك حكيم عليم ووهبنا له إسحاق ويعقوب كلا هدينا ونوحا هدينا من قبل ومن ذريته داوود وسليمان وأيوب ويوسف وموسى وهارون وكذلك نجزي المحسنين وزكريا ويحيى وعيسى وإلياس كل من الصالحين وإسماعيل واليسع ويونس ولوطا وكلا فضلنا على العالمين"[الأنعام:83-86].
ففي قوله (وكلاً فضلنا على العالمين) تفضيل الأنبياء على سائر الخلق، ومحمد صلى الله عليه وسلم هو خير الأنبياء وأفضلهم، كما قال عن نفسه:"أنا سيد ولد آدم ولا فخر، وأول من ينشق عنه القبر، وأول شافع، وأول مشفع" رواه مسلم.
وهذا التفضيل الإلهي للأنبياء الكرام -وفي مقدمتهم نبينا محمد صلى الله عليه وسلم-يقتضي توقيرهم واحترامهم، فمن ألحق بهم أيّ نوع من أنواع الأذى فقد باء بالخيبة والخسران في الدنيا والآخرة ، قال تعالى -في حق نبيه محمد صلى الله عليه وسلم-:"إن الذين يؤذون الله ورسوله لعنهم الله في الدنيا والآخرة وأعد لهم عذابا مهينا"[الأحزاب:57].
فجعل أذى الرسول صلى الله عليه وسلم من أذى الله تعالى، وحكم على مؤذيه بالطرد والإبعاد عن رحمته، والعذاب المهين له.
وقد قرّر أهل العلم أن أذية الرسول صلى الله عليه وسلم تحصل بكل ما يؤذيه من الأقوال والأفعال.
وتمثيل أنبياء الله يفتح أبواب التشكيك في أحوالهم والكذب عليهم، إذ لا يمكن أن يطابق حال الممثلين حال الأنبياء في أحوالهم وتصرفاتهم وما كانوا عليه -عليهم السلام -من سمت وهيئة وهدي، وقد يؤدي هؤلاء الممثلون أدواراً غير مناسبة -سابقاً أو لاحقاً-ينطبع في ذهن المتلقي اتصاف ذلك النبي بصفات تلك الشخصيات التي مثلها ذلك الممثل.
فعلى الأمة أن تقوم بواجبها الشرعي في الذبّ عن الأنبياء والمحافظة على مكانتهم، والوقوف ضد من يتعرض لهم بشيء من الأذى.
والصحابة الكرام رضوان الله عليهم شرفهم الله بصحبة النبي صلى الله عليه وسلم، واختصهم بها دون غيرهم من الناس، ولكرامتهم عند الله اثنى الله عليهم بقوله:"محمد رسول الله والذين معه أشداء على الكفار رحماء بينهم تراهم ركعا سجدا يبتغون فضلا من الله ورضوانا سيماهم في وجوههم من أثر السجود ذلك مثلهم في التوراة ومثلهم في الإنجيل كزرع أخرج شطأه فآزره فاستغلظ فاستوى على سوقه يعجب الزراع ليغيظ بهم الكفار وعد الله الذين آمنوا وعملوا الصالحات منهم مغفرة وأجرا عظيما"[الفتح:29].
ولا يمكن للممثلين مطابقة ما كان عليه الصحابة - رضوان الله عليهم - من سمت وهدي.
والذين يقومون بإعداد السيناريو في تمثيل الصحابة -رضوان الله عليهم- ينقلون الغث والسمين، ويحرصون على نقل ما يساعدهم في حبكة المسلسل أو الفيلم وإثارة المشاهد، وربما زادوا عليها أشياء يتخيلونها وأحداثاً يستنتجونها، والواقع بخلاف ذلك.
وقد يتضمن ذلك أن يمثل بعض الممثلين دور الكفار ممن حارب الصحابة أو عذب ضعفاءهم، ويتكلمون بكلمات كفرية كالحلف باللات والعزى، أو ذم النبي صلى الله عليه وسلم وما جاء به، مما لا يجوز التلفظ به ولا إقراره.
وما يقال من أن تمثيل الأنبياء عليهم السلام والصحابة الكرام فيه مصلحة للدعوة إلى الإسلام، وإظهار لمكارم الأخلاق، ومحاسن الآداب غير صحيح.
ولو فرض أن فيه مصلحة فإنها لا تعتبر أيضاً، لأنه يعارضها مفسدة أعظم منها، وهي ما سبق ذكره مما قد يكون ذريعة لانتقاص الأنبياء والصحابة والحط من قدرهم.
ومن القواعد المقررة في الشريعة الإسلامية أن المصلحة المتوهمة لا تعتبر ، ومن قواعدها أيضاً: أن المصلحة إذا عارضتها مفسدة مساوية لها لا تعتبر؛ لأن درء المفاسد مقدم على جلب المصالح ، فكيف إذا كانت المفسدة أعظم من المصلحة وأرجح، كما هو الشأن في تمثيل الأنبياء والصحابة.
ثم إن الدعوة إلى الإسلام وإظهار مكارم الأخلاق تكون بالوسائل المشروعة التي أثبتت نجاحها على مدار تاريخ الأمة الإسلامية.
ووسائل الإعلام مدعوة إلى الإسهام في نشر سير الأنبياء والرسل عليهم السلام والصحابة الكرام رضي الله عنهم دون تمثيل شخصياتهم، وهي مدعوة إلى امتثال التوجيهات الإلهية والنبوية في القيام بالمسؤوليات المتضمنة توعية الجماهير ؛ لكي تتمسك بدينها وتحترم سلفها.وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحابته أجمعين.
سنن الترمذي ت بشار: (241/4، ط: بشار عواد معروف)
عن عائشة، قالت: حكيت للنبي صلى الله عليه وسلم رجلا فقال: ما يسرني أني حكيت رجلا وأن لي كذا وكذا، قالت: فقلت: يا رسول الله إن صفية امرأة، وقالت بيدها هكذا كأنها تعني قصيرة، فقال: لقد مزجت بكلمة لو مزجت بها ماء البحر لمزج.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی