سوال:
مفتی صاحب! کیا یہ بات صحیح ہے کہ دس محرم الحرام کو امام حسین رضی اللہ عنہ کو کربلا میں شہید کیا گیا تھا، اسی وجہ سے یہ دن خاص ہے؟
جواب: یہ ایک مسلّمہ تاریخی حقیقت ہے کہ یومِ عاشوراء، یعنی 10 محرّم الحرام، اسلامی تاریخ کے نہایت اہم اور یادگار دنوں میں سے ایک ہے۔ اسی دن نواسۂ رسول ﷺ، جگر گوشۂ بتولؓ، سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے جان نثار ساتھیوں نے سرزمینِ عراق کے مقامِ "کربلا" میں حق و صداقت، عدل و انصاف اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی یہ عظیم قربانی امتِ مسلمہ کے لیے صبر، استقامت، عزیمت، حق گوئی اور دین پر ثابت قدمی کا روشن مینار ہے، جس سے ہر دور کے مسلمانوں نے ہدایت اور حوصلہ حاصل کیا ہے۔
تاہم یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ یومِ عاشوراء کی عظمت اور فضیلت صرف واقعۂ کربلا کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس دن کو اسلامی تاریخ میں اس سے پہلے بھی خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔ متعدد روایات میں مذکور ہے کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و ستم سے نجات عطا فرمائی۔ اسی طرح بعض آثار میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے رفقاء کشتی سے بحفاظت اترے تو وہ دن بھی عاشوراء کا تھا۔ اس کے علاوہ بھی انبیائے کرام علیہم السلام سے متعلق کئی اہم واقعات اس دن کے ساتھ منسوب کیے جاتے ہیں، جن کا تذکرہ کتبِ تاریخ و سیر میں موجود ہے۔
مزید برآں! رسول اللہ ﷺ نے یومِ عاشوراء کے روزے کی خصوصی ترغیب ارشاد فرمائی ہے اور اسے گزشتہ ایک سال کے گناہوں کے کفّارے کا سبب قرار دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*صحیح البخاري: (كتاب الصوم، باب صيام يوم عاشوراء، رقم الحدیث:2004، ط: دار طوق النجاة)*
عن ابن عباس رضي الله عنه، قال:" قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة *فراى اليهود تصوم يوم عاشوراء* ، فقال: ما هذا؟ قالوا: هذا يوم صالح، *هذا يوم نجى الله بني إسرائيل من عدوهم* ، فصامه موسى، قال: فانا احق بموسى منكم، *فصامه وامر بصيامه.*
*صحيح مسلم: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ اسْتِحْبَابِ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ، رقم الحدیث:1162)*
عن ابي قتادة : رجل اتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: كيف تصوم؟، " فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم "، فلما راى عمر رضي الله عنه غضبه، قال: رضينا بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد نبيا، نعوذ بالله من غضب الله، وغضب رسوله فجعل عمر رضي الله عنه يردد هذا الكلام حتى سكن غضبه، فقال عمر: يا رسول الله، كيف بمن يصوم الدهر كله؟، قال: " لا صام ولا افطر "، او قال: " لم يصم ولم يفطر "، قال: كيف من يصوم يومين، ويفطر يوما؟، قال: " ويطيق ذلك احد "، قال: كيف من يصوم يوما، ويفطر يوما؟، قال: " ذاك صوم داود عليه السلام "، قال: كيف من يصوم يوما، ويفطر يومين؟، قال: " وددت اني طوقت ذلك "، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ثلاث من كل شهر، ورمضان إلى رمضان، فهذا صيام الدهر كله، صيام يوم عرفة احتسب على الله ان يكفر السنة التي قبله، والسنة التي بعده، *وصيام يوم عاشوراء، احتسب على الله ان يكفر السنة التي قبله*.
*البداية والنهاية: (116/1- 117، ط: دار الفکر)*
قال الحافظ ابن كثير في البداية والنهاية: وقال قتادة وغيره: ركبوا في السفينة في اليوم العاشر من شهر رجب، فساروا مائة وخمسين يوما واستقرت بهم على الجودي شهرا. *وكان خروجهم من السفينة في يوم عاشوراء من المحرم* ، وقد روى ابن جرير خبرا مرفوعا يوافق هذا، وأنهم صاموا يومهم ذلك.
*البداية والنهاية: (صفة مقتل الحسین، فصل، 8/ 198،ط: دار الفکر)*
*وكان مقتل الحسين رضي الله عنه يوم الجمعة، يوم عاشوراء من المحرم سنة إحدى وستين* . وقال هشام بن الكلبي، سنة ثنتين وستين، وبه قال علي بن المديني. وقال ابن لهيعة: سنة ثنتين أو ثلاث وستين. وقال غيره سنة ستين. والصحيح الأول. *بمكان من الطف يقال له كربلاء من أرض العراق* وله من العمر ثمان وخمسون سنة أو نحوها
*شہید کربلا، تصنیف مفتی شفیع عثمانیؒ صاحب: (ص 75، ط دارالاشاعت)*
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی