resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: کاہن کی حقیقت اور اس کے پاس جانے کا حکم

(48263-No)

سوال: اگر کوئی روحانی پیشوا، نام نہاد "بابا جی" یا کوئی عورت جو روحانی علم کی دعوے دار ہو، آپ کو آپ کے ماضی اور مستقبل کے بارے میں کچھ بتائے اور ان کی بعض باتیں درست بھی ثابت ہو جائیں تو وہ یہ باتیں کیسے جان لیتے ہیں؟ جبکہ مستقبل کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔

جواب: کاہن کی حقیقت اور اس کے پاس جانے کا حکم
الجواب حامداً و مصلیاً...
واضح رہے کہ عالِمُ الغیب صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات ہے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی انسان، فرشتے یا جن کے بارے میں عالِمُ الغیب ہونے کا عقیدہ رکھنا کفریہ عقیدہ ہے۔ علم الغیب کا مطلب ہے: "بلا واسطہ اور بغیر اسباب کے کسی چیز کا علم حاصل ہو جانا"۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ خاصہ ہے، اللہ کے علاوہ کسی کے بس میں یہ نہیں کہ وہ بغیر اسباب اختیار کیے کسی چیز کے بارے میں علم حاصل کرلے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "کہہ دو کہ : الله کے سوا آسمانوں اور زمین میں کسی کو بھی غیب کا علم نہیں ہے۔ اور لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ انہیں کب دوبارہ زندہ کیا جائے گا O" (النمل:65)
علم الغیب دو طرح کے امور سے متعلق ہے:
1) احکام شریعت، 2) امور تکوینیہ۔
اللہ تعالیٰ جب کسی نبی کو بھیجتا ہے تو اسے شریعت کا مکمل علم دیتا ہے تاکہ وہ اپنی اُمَّت کی مکمل رہنمائی کرے، جبکہ تکوینی امور سے متعلق جو علم ہے اس میں اللہ کچھ باتیں نبی کو بتا دیتا ہے اور بہت سی نہیں بتاتا، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کو "اَنْبَاءُ الْغَیْب" کا نام دیا ہے، جس کا اردو ترجمہ اَخْبَارُ الْغَیْب یعنی "غیب کی باتیں" کیا جاسکتا ہے، ان سے مراد وہ باتیں ہیں جن کا تعلق تو علمِ الغیب سے ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نبی کو بذریعہ وحی وہ باتیں بتا دیتا ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: (اے پیغمبر) یہ غیب کی کچھ باتیں ہیں جو ہم تمہیں وحی کے ذریعے بتا رہے ہیں، یہ باتیں نہ تم اس سے پہلے جانتے تھے، نہ تمہاری قوم، لہذا صبر سے کام لو اور آخری انجام متّقیوں ہی کے حق میں ہوگا (ھود:49) اس آیت سے یہ بات واضح ہورہی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم باوجود اس کے کہ مخلوقات میں سب سے زیادہ ہے پھر بھی محدود ہے۔
جہاں تک آپ کا ایسے لوگوں کے بارے میں سوال ہے جو اپنی بڑائی کا دعویٰ کرتے ہیں، اور لوگوں کو ان کے مستقبل یا ماضی کے بارے میں بتاکر متاثر کرتے ہیں، یا وہ مستقل طور پر کہانت کا کام کرتے ہیں، اور اسی کے ذریعہ سے پیسے کماتے ہیں تو ان میں اکثر و بیشتر اپنے تجربہ اور چالبازی کی وجہ سے کسی شخص کے مستقبل کے بارے میں اندازہ لگاتے ہیں، اور جب وہ اندازہ درست نکلتا ہے تو ہر طرف اس کا چرچا ہونے لگتا ہے، اگر تحقیق کی جائے تو ایسے بہت سے لوگ ہوں گے جن کو مستقبل کے بارے بتائی ہوئی باتیں غلط ثابت ہو چکی ہوں گی، اسی طرح یہ لوگ علمِ نفسیات اور مسمیرزم کی مدد سے غیر شعوری طور پر پہلے انسان سے اس کے ماضی کے احوال معلوم کرلیتے ہیں اور پھر وہی باتیں انسان کو دوسرے پیرائے میں بتاکر یہ باور کراتے ہیں کہ ہم تمہارا ماضی جانتے ہیں۔ کچھ کاہنوں کا جنّات اور شیاطین کے ساتھ بھی تعلق ہوتا ہے، جب فرشتے آپس میں کسی پیش آنے والے واقعہ کا ذکر کررہے ہوتے ہیں تو کچھ شیاطین ان کی اس گفتگو میں سے کچھ نہ کچھ باتیں کان لگا کر سن لیتے ہیں اور پھر یہ باتیں لاکر کاہنوں کو بتا دیتے ہیں، کاہن ان میں اپنی طرف سے مزید اضافہ کرکے لوگوں کے سامنے اس کو بیان کرکے کہتا ہے کہ یہ غیب کا علم ہے جو مجھے حاصل ہے، اسی طرح کچھ کاہن ستاروں اور دیگر اسباب کی مدد سے کچھ اندازے کھاکر اپنا کام چلاتے ہیں۔
بہرحال کہانت اسلام میں حرام اور ممنوع ہے، اور احادیث مبارکہ میں کاہن کے پاس جانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے کیونکہ کاہن کے پاس جانے کی وجہ سے مسلمان کی نمازیں چالیس راتوں تک قبول نہیں ہوتی، حدیث نبوی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو کوئی کسی غیب کی باتیں بتانے والے کے پاس جائے اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھے تو چالیس راتوں تک اس (پوچھنے والے) شخص کی نماز قبول نہیں ہوگی۔" ( مسلم: 2230)
اور اگر کاہن کے پاس جاکر اس سے بات پوچھے اور پھر اس بات کی تصدیق بھی کردے یعنی اس پر یقین کرلے اور مان لے تو ایسے شخص کا ایمان ہی ضائع ہو جاتا ہے، ایک حدیث شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص کسی کاہن کے پاس جائے اور اس کی کہی ہوئی باتوں کی تصدیق کرلے تو وہ محمد کے دین سے بری ہوگیا ہے۔" (سنن ابن ماجة: رقم الحديث: 639) لہٰذا مسلمانوں کو اپنے اعمال اور ایمان کی حفاظت کرنی چاہئے اور اس قسم کے کفریہ کام کرنے والوں سے دور رہنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (سورۃ هود، رقم الآیۃ: 49)
تِلۡكَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ‌ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰذَا‌ ‌ۛؕ فَاصۡبِرۡ‌ ‌ۛؕ اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ o

القرآن الکریم :(النمل، رقم الآیۃ: 65)
قُلْ لَّا يَعۡلَمُ مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الۡغَيۡبَ اِلَّا اللّٰهُ‌ؕ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ اَيَّانَ يُبۡعَثُوۡنَ o

صحیح البخاری: (رقم الحدیث:6213، ط: دار طوق النجاۃ)
أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الكُهَّانِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيْسُوا بِشَيْءٍ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّيْءِ يَكُونُ حَقًّا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تِلْكَ الكَلِمَةُ مِنَ الحَقِّ، يَخْطَفُهَا الجِنِّيُّ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ".

سنن ابن ماجة: (رقم الحديث: 639، 404/1، ط: دار الرسالة العالمية)
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "من أتى حائضا، أو امرأة في دبرها، أو ‌كاهنا، فصدقه بما يقول، فقد كفر بما أنزل على محمد".

صحیح مسلم: (رقم الحدیث: 2230، ط: دار احیاء التراث العربی)
عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَتَى عَرَّافًا، فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ؛ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً".

رد المحتار: (45/1، ط: ایچ ایم سعید)
(قوله: والكهانة) وهي تعاطي الخبر عن الكائنات في المستقبل وادعاء معرفة الأسرار. قال في نهاية الحديث: وقد كان في العرب كهنة كشق وسطيح، فمنهم من كان يزعم أن له تابعا يلقي إليه الأخبار عن الكائنات، ومنهم أنه يعرف الأمور بمقدمات يستدل بها على موافقها من كلام من يسأله أو حاله أو فعله وهذا يخصونه باسم العراف كالمدعي معرفة المسروق ونحوه، وحديث " من أتى كاهنا " يشمل العراف والمنجم. والعرب تسمي كل من يتعاطى علما دقيقا كاهنا، ومنهم من يسمي المنجم والطبيب كاهنا۔

وفیه ایضا: (242/4)
والحاصل أن الكاهن من يدعي معرفة الغيب بأسباب وهي مختلفة فلذا انقسم إلى أنواع متعددة كالعراف. والرمال والمنجم: وهو الذي يخبر عن المستقبل بطلوع النجم وغروبه، والذي يضرب بالحصى، والذي يدعي أن له صاحبا من الجن يخبره عما سيكون، والكل مذموم شرعا، محكوم عليهم وعلى مصدقهم بالكفر.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs