resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: حج کوٹہ (Hajj Quota) تجارتی نام (Trade Name) کمپنی لوگو (Company Logo)، لائسنس (License) اور کمپنی کی ساکھ (Goodwill) کی خرید و فروخت کا حکم

(46210-No)

سوال: حج و عمرہ کے موجودہ نظام میں حکومت بعض اوقات لائسنس یافتہ کمپنیوں یا ٹور آپریٹرز کو مخصوص تعداد میں حجاج کا کوٹہ (Quota) یا بعض دیگر حقوق عطا کرتی ہے۔ اسی طرح بعض مواقع پر حج و عمرہ سے متعلق حقوق، اجازت نامے، لائسنس، شہرتِ تجارتی (Goodwill) اور مکمل پیکیجز وغیرہ کا تبادلہ بھی کیا جاتا ہے۔ ان امور کے شرعی احکام کے بارے میں درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:-
(1) حج یا ویزا کوٹے کی خرید و فروخت: بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ میرے پاس 100 ویزوں یا 100 حجاج کا کوٹہ موجود ہے، میں یہ کوٹہ اتنی رقم کے عوض فروخت کرتا ہوں۔ اس صورت میں خریدار خود حجاج کو شامل کرکے زیادہ قیمت وصول کرتا ہے اور نفع حاصل کرتا ہے۔
اس ضمن میں سوال یہ ہے کہ جب فروخت کی جانے والی چیز کوئی مادی مال نہیں بلکہ ایک حق یا اجازت ہے تو کیا اس قسم کے حج یا ویزا کوٹے کی خرید و فروخت شرعاً جائز ہے؟ اسی طرح تجارتی نام (Trad Nam) کمپنی لوگو (Trad Mark) لائسنس (License) کمپنی کی ساکھ اور شہرت (Goodwill) وغیرہ کی بھی خرید و فروخت کی جاتی ہے تو کیا ان کی خرید و فروخت جائز ہے یا نہیں؟
(2) حج کوٹے میں شرکت کا حکم: مثال کے طور پر کسی شخص کو حکومت کی طرف سے 200 حجاج کا کوٹہ ملا، لیکن اس کے پاس اتنی مالی استطاعت یا انتظامی وسائل موجود نہیں کہ وہ تمام 200 حجاج کی فیس جمع کر سکے۔ چنانچہ وہ کسی دوسرے شخص سے کہتا ہے کہ "میرے پاس 200 میں سے 100 حجاج کا کوٹہ موجود ہے، آپ ان 100 افراد کی فیس جمع کردیں، اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے نفع و نقصان میں آپ بھی شریک ہوں"۔
اس صورت میں چونکہ کوئی مادی چیز فروخت نہیں کی جا رہی بلکہ حکومت کی طرف سے عطا کردہ ایک حق یا اجازت سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے، اس لیے سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح دوسری پارٹی باقی حجاج کی فیس ادا کرکے پہلی پارٹی کے ساتھ شریک ہوسکتی ہے؟
(3) مکمل حج پیکیج کی فروخت: مثال کے طور پر کسی کمپنی کو 100 حجاج کا کوٹہ ملا، لیکن وہ صرف 50 حجاج کو مکمل حج پیکیج فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ چنانچہ وہ باقی 50 افراد کے لیے یہ شرط لگاتی ہے: "میں آپ کو فی حاجی 11 لاکھ روپے کے حساب سے مکمل پیکیج فراہم کرتی ہوں، اس کے بعد آپ جس قیمت پر چاہیں اسے آگے فروخت کر سکتے ہیں۔" دوسرا شخص اس پیکیج کو حاصل کرکے مزید حجاج تلاش کرتا ہے اور زیادہ قیمت پر فروخت کرتا ہے۔ اس صورت میں دریافت طلب یہ ہے کہ کیا یہ معاملہ شرعاً درست ہے؟
(4) مذکورہ معاملات کی شرعی نوعیت:
اگر مذکورہ تمام صورتوں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بظاہر ان میں سے اکثر معاملات میں اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ کوٹہ رکھنے والے شخص کے پاس اتنی رقم یا وسائل موجود نہیں ہوتے کہ وہ خود پورا کام مکمل کر سکے، لہٰذا وہ دوسرے افراد کو شامل کرتا ہے یا ان سے سرمایہ حاصل کرتا ہے۔
اس تناظر میں وضاحت فرمائیے کہ:
1) سرمایہ کار کو شامل کرنے کی شرعاً درست صورت کیا ہے؟
2) کیا ان معاملات کو مضاربت، شرکت، وکالت بالاجرت یا کسی اور شرعی عقد کے تحت درست بنایا جا سکتا ہے؟
3) موجودہ حج کوٹہ سسٹم میں شرعی اصولوں کے مطابق قابلِ عمل اور جائز طریقۂ کار کیا ہوگا؟

جواب: 1-4) سوال میں "حج کوٹہ" کے متعلق مذکورہ تفصیلات سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذکر کردہ تمام صورتوں میں "حج کوٹہ" کی خرید وفروخت کا معاملہ کیا جاتا ہے، حالانکہ "حج کوٹہ" بذاتِ خود مال نہیں ہے، بلکہ ایک حقِّ مجرد ہے، اور اصولی طور پر حقوقِ مجردہ (کسی عین سے تعلق نہ رکھنے والے حقوق) کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے، لہٰذا مستقل طور پر "حج کوٹہ" کی خرید و فروخت جائز نہیں ہوگی۔
تاہم "حج کوٹہ" حصول کے لیے چونکہ محنت اور رقم لگانی پڑتی ہے، اور تاجروں کے ہاں اس کی قیمتی ہونے کے اعتبار سے بڑی وقعت ہے، لہٰذا کوٹہ رکھنے والا شخص مکمل یا کوٹے کے بعض حصے کے بدلے کچھ معاوضہ لے کر دوسرے فریق کے حق میں دستبردار ہوسکتا ہے، بشرطیکہ قانونی اعتبار سے کوٹہ کسی دوسرے شخص یا کمپنی کو منتقل کرنے میں کوئی ممانعت نہ ہو اور اس میں حاجیوں سے کسی قسم کی دھوکہ دہی نہ کی جاتی ہو۔
نیز مذکورہ شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے متبادل کے طور پر درجہ ذیل دو اور صورتیں بھی اختیار کی جاسکتی ہیں:
1) فریقین باہمی رضامندی سے یہ طے کرلیں کہ حج کوٹہ دینے والا مکمل کوٹہ یا مخصوص تعداد پر مشتمل کوٹے کا کچھ حصہ دینے کے ساتھ ساتھ اپنی طرف سے کچھ خدمات بھی فراہم کرے گا، اور اسے کوٹہ دینے اور خدمات کے مجموعے کے بدلے متعین معاوضہ دیا جائے گا۔ اس کی ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ دوسرا فریق کوٹہ رکھنے والے کے ساتھ یہ طے کرلے کہ ہم مطلوبہ تعداد کی حد تک حج پر جانے والے حضرات کو آپ کے پاس بھیجیں گے، آپ ان کی کاغذی کارروائی وغیرہ مکمل کرکے وہ کارروائی ہمارے حوالے کردیں اور آپ کو کوٹہ دینے اور اس عمل کا مجموعی طور پر اتنا معاوضہ دیا جائے گا۔
2) کوٹہ رکھنے والا فریق دوسرے فریق سے یہ طے کر لے کہ آپ ہمارے پاس حج پر جانے والے حضرات کو بھیجا کریں، اس کے بدلے آپ کو فی بندہ کے اعتبار سے الگ سے متعین کمیشن دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ تجارتی نام (Trade Name)، کمپنی لوگو (Company Logo)، لائسنس (License) اور کمپنی کی ساکھ (Goodwill) بذاتِ خود مال نہیں ہیں، لیکن یہ امور اگر رجسٹرڈ ہوں، اور قانوناً ان کی خرید و فروخت کی ممانعت نہ ہو، نیز صارفین کے حق میں التباس سے بچنے کے لیے خریدار کی طرف سے اس بات کی وضاحت کی جائے کہ اب اس تجارتی نام وغیرہ کے تحت کام کرنے والا فرد یا کمپنی وہ نہیں رہا جو اس سے پہلے کام کرتا رہا، اور خریدار سابقہ معیار کے مطابق یا اس سے بہتر سروس لوگوں کو مُہیّا کرنے کی نیّت سے تجارتی نام وغیرہ کو خریدے تو ان باتوں کی رعایت رکھتے ہوئے مذکورہ امور کی خرید و فروخت کی گنجائش ہوسکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*عمدة القاري: (93/12، ط: دار احیاء التراث العلمی)*
"وقال ابن عباس لا بأس أن يقول بع هذا الثوب فما زاد على كذا وكذا فهو لك
هذا التعليق وصله ابن أبي شيبة عن هشيم عن عمرو بن دينار عن عطاء عن ابن عباس نحوه.
وقال ابن سيرين إذا قال بعه بكذا فما كان من ربح فهو لك أو بيني وبينك فلا بأس به۔ هذا التعليق أيضا وصله ابن أبي شيبة عن هشيم عن يونس عن ابن سيرين، وفي (التلويح) : وأما قول ابن عباس وابن سيرين فأكثر العلماء لا يجيزون هذا البيع، وممن كرهه: الثوري والكوفيون، وقال الشافعي ومالك: لا يجوز، فإن باع فله أجر مثله، وأجازه أحمد وإسحاق"

*رد المحتار: (63/6، ط: دار الفكر )*
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة.

*بحوث في قضايا فقهية معاصرة: (109/1، ط: دار القلم)*
خلاصة الحكم في الاعتياض عن الحقوق: إلى هنا قد ذكرت ما ظفرت به من الأنواع المختلفة للحقوق التي تحدث الفقهاء عنها وعن عقد المعاوضة عليها. ويتحصل من مجموع ما سبق من أبحاث الفقهاء القواعد التالية:
١- إن الحقوق التي شرعت لدفع الضرر، لا على وجه الأصالة، لا يجوز الاعتياض عنها بصورة من الصور، لا عن طريق البيع ولا عن طريق الصلح والتنازل، مثل حق الشفعة، وحق القسم للمرأة، وخيار المخيرة.
٢- إن الحقوق التي ليست ثابتة الآن، وإنما هي متوقعة في المستقبل، لا يجوز الاعتياض عنها بصورة من الصور، كحق الوراثة في حياة المورث، وحق الولاء في حياة المولي.
٣- إن الحقوق الشرعية التي ثبتت لأصحابها أصالة، ولكنها لا تقبل الانتقال من واحد إلى آخر، لا يجوز الاعتياض عنها عن طريق البيع، ولكن يجوز عن طريق الصلح والتنازل بمال، مثل حق القصاص، وحق الزوج في بقاء نكاحه مع زوجته، (يجوز الصلح عنه بالخلع والطلاق على مال) .
٤- وإن الحقوق العرفية التي هي عبارة عن منافع دائمة من مرافق الأعيان، مثل حق المرور في الطريق، وحق الشرب والتسييل وغيره يجوز بيعها عند الشافعية والحنابلة مطلقا، وكذلك يبدو من بعض فروع المالكية. والقول المختار عند المتأخرين من الحنفية أن ما كان من هذه الحقوق متعلقا بالأعيان الثابتة، فهو مال حكما، يجوز بيعه وشراؤه، مثل حق المرور، وحق الشرب، وحق التسييل، بشرط أن لا يكون هناك مانع آخر من جواز البيع، كالغرر والجهالة. ولا يجوز بيع حق التعلي عندهم، لأنه ليس متعلقا بعين ثابتة. ولكنه يجوز التنازل عنه بمال عن طريق الصلح، كما صرح به الأتاسي.
٥- إن للعرف مجالا في إدراج بعض الحقوق في الأموال، فإن المالية تثبت بتمول الناس، كما يقول ابن عابدين رحمه الله.................
*بيع الاسم التجاري والعلامة التجارية:*
نشأت مسألة الاسم التجاري والعلامة التجارية منذ أن ازدادت التجارات حجما وضخامة، وصار التاجر الواحد أو الشركة الواحدة ينتج ويصدر أمواله الضخمة إلى عدد كبير من الناس والبلاد، وتنوعت المنتجات من جنس واحد باختلاف أوصافها، وصارت هذه الأوصاف تعرف باسم المنتج.......................... *ويبدو لهذا العبد الضعيف، عفا الله عنه* أن حق الاسم التجاري والعلامات التجارية وإن كان في الأصل حقا مجردا غير ثابت في عين قائمة، ولكنه بعد التسجيل الحكومي الذي يتطلب جهدا كبيرا، وبذل أمور جمة، والذي تحصل له بعد ذلك صفة قانونية تمثلها شهادات مكتوبة بيد الحامل، وفي دفاتر الحكومة، أشبه الحق المستقر في العين، والتحق في عرف التجار بالأعيان، فينبغي أن يجوز الاعتياض عنه على وجه البيع أيضا، ولا شك أن للعرف مجالا في إدراج بعض الأشياء في الأعيان، لأن المالية، كما يقول ابن عابدين رحمه الله، تثبت بتمول الناس. وهذا مثل القوة الكهربائية أو الغاز التي لم تكن في الأزمان السالفة تعد من الأموال والأعيان المتقومة، لأنها ليست عينا قائمة بذاته، ولم يكن إحرازها في الوسعة البشرية، ولكنها صارت الآن من أعز الأموال المتقومة التي لا شبهة في جواز بيعها وشرائها، وذلك لنفعها البالغ، ولإمكان إحرازها، ولتعارف الناس بماليتها وتقومها. فكذلك الاسم التجاري أو العلامة التجارية أصبحت بعد التسجيل الحكومي ذات قيمة بالغة في عرف التجار، ويصدق عليها أنها تحرز بإحراز شهادتها المكتوبة من قبل الحكومة، وإحراز كل شيء بما يلائمه، ويصدق عليها أيضا أنها تدخر لوقت الحاجة، فالعناصر اللازمة التي تمنح الشيء صفة المالية متوفرة فيها، سوى أنها ليست عينا قائمة بنفسها، فيبدو أنه لا مانع شرعا من أن يسلك بها مسلك الأموال في جواز بيعها وشرائها.
وذلك بشرطين:
الأول: أن يكون الاسم أو العلامة مسجلة عند الحكومة بصفة قانونية، لأن ما ليس بمسجل لا يعد مالا في عرف التجار.
والثانى: أن لا يستلزم هذا البيع الالتباس أو الخديعة في حق المستهلكين، وذلك بأن يقع الإعلان من قبل المشتري أن منتج هذه البضاعة غير المنتج السابق، وإنما يستعمل هذا الاسم أو العلامة بعد شرائهما بنية أنه سيحاول بقدر الإمكان أن يكون إنتاجه بمستوى الإنتاج السابق أو أحسن منه.
وأما بغير هذا الإعلان، فإن انتقال الاسم أو العلامة التجارية إلى منتج آخر سبب اللبس والخديعة للمستهلكين، واللبس والخديعة حرام لا يجوز بحال. والله سبحانه وتعالى أعلم.

*خامساً: الترخيص التجاري*

وما قلنا في حكم الاسم التجاري والعلامة التجارية من جواز الاعتياض عنهما يصدق على الترخيص التجاري.
وحقيقة هذا الترخيص : أن معظم الحكومات اليوم لا تسمح بإيراد البضاعة من الخارج أو إصدارها إليه إلا برخصة تمنحها الحكومة، والذي يظهر أن هذا نوع من الحجر على التجار، ولا تستحينه الشريعة الإسلامية إلا لضرورة ملحة، ولكن الواقع في معظم البلاد هكذا .
فالسؤال الذي ينشأ في الظروف الحاضرة : هل يجوز لحامل رخصة الإيراد أو الإصدار أن يبيع هذه الرخصة إلى تاجر آخر؟ والواقع في هذه الرخصة أنها ليست عيناً مادية، ولكنها عبارة عن حق بيع البضاعة في الخارج أو شرائها منه، فيتأتى فيه ما ذكرنا في الاسم التجاري من أن هذا الحق ثابت أصالة فيجوز النزول عنه بمال .
وبما أن الحصول على هذه الرخصة من الحكومة يتطلب كلاً من الجهد والوقت والمال، ويمنح حاملها صفة قانونية تمثلها الشهادات المكتوبة، ويستحق بها التجار تسهيلات توفرها الحكومة لحامليها، وصارت هذه الرخصة في عُرفِ التجار ذات قيمة كبيرة يسلك بها مسلك الأموال، فلا يبعد أن تلتحق بالأعيان في جواز بيعها وشرائها، ولكن كل ذلك إنما يأتي إذا كان في الحكومة قانون يسمح بنقل هذه الرخصة إلى رجل آخر، أما إذا كانت الرخصة باسم رجل مخصوص أو شركة مخصوصة، ولا يسمح القانون بنقلها إلى رجل آخر أو شركة أخرى، فلا شبهة في عدم جواز بيعها، لأن بيعها يؤدي حينئذ إلى الكذب والخديعة، فإن مشتري الرخصة يستعملها باسم البائع، لا باسم نفسه، فلا يحل ذلك إلا بأن يوكل حامل الرخصة بالبيع والشراء.

*کذا فی تبویب فتاویٰ دارالعلوم کراتشي، رقم الفتوىٰ :(1355/36)*

*فقہی مقالات: (222/1، ط: میمن اسلامک پبلشرز)*

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial