سوال:
ایک مسلمان شخص ایک ہندو خاتون کو اسلام کی دعوت دے رہا ہے، وہ خاتون اسلامی طرزِ زندگی کو پسند کرتی ہے، لیکن اسلام قبول کرنا نہیں چاہتی، بلکہ اس کی بجائے وہ اپنی رضا و رغبت سے لونڈی (کنیز) بن کر رہنے کی خواہش رکھتی ہے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا شریعتِ اسلامیہ میں اس کی اجازت ہے؟ اور اگر بالفرض یہ جائز ہو، پھر بعد میں وہ خاتون اسلام قبول کر لے اور اسے آزاد کر دیا جائے تو کیا اس کے بعد اس سے باقاعدہ نکاح کیا جا سکتا ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب: واضح رہے کہ اسلام سے پہلے غلام بنانے کے کئی طریقے رائج تھے، مثلاً: آزاد شخص کو فروخت کردینا، قرض کی وجہ سے کسی کو غلام بنا دینا، زبردستی یا دھوکہ سے غلام بنانا اور جنگی قیدیوں کو غلام بنانا وغیرہ۔ حضور اکرم ﷺ نے غلام بنانے کی صرف ایک سابقہ صورت کو جاری رکھا، اس کے علاوہ باقی تمام صورتوں کو ممنوع قرار دیدیا۔ وہ ایک جائز صورت یہ ہے کہ جنگی قیدیوں کو غلام بنانا، لہذا اگر مسلمانوں کے کفار پر فتح کے نتیجے میں کچھ کفار قید ہو جائیں تو امام المسلمین ان قیدیوں کو غلام بنا سکتا ہے، یہاں اگر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جنگی قیدی کو غلام بنانا درحقیقت اس پر رحم ہی کی ایک صورت ہے، اس لیے کہ اس طرح (غلام بن کر) وہ عام لوگوں کی طرح زندگی گزارسکتا ہے، بصورتِ دیگر یا تو وہ قتل ہو جاتا یا ہمیشہ کے لیے زنداں میں پڑا رہتا۔ پس معلوم ہوا کہ دینِ اسلام میں نہ تو کسی آزاد شخص کو غلام بنایا جاسکتا ہے اور نہ ہی خود اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے آپ کو غلامی میں دکھیل دے، غلام صرف جنگی قیدی بن سکتا ہے اور وہ بھی امام المسلمین کے فیصلے کے نتیجے میں۔
لہٰذا سوال میں پوچھی گئی صورت میں مذکور خاتون کا لونڈی بنانا ناجائز اور حرام ہے، شریعت مطہّرہ میں اس کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*سنن ابن ماجه: (رقم الحدیث: 2442، ط: دارالجیل)*
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ كُنْتُ خَصْمَهُ خَصَمْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُوفِهِ أَجْرَهُ".
*مختصر القدوری: (232/1، ط: دار الکتب العلمیۃ)*
ولا يفدون بالأسارى عند أبي حنيفة وقال أبو يوسف ومحمد: يفادى بهم أسارى المسلمين ولا يجوز المن عليهم وإذا فتح الإمام بلدا عنوة فهو بالخيار: إن شاء قسمه بين الغانمين وإن شاء أقر أهله عليه ووضع عليهم الخراج وهو في الأسارى بالخيار: إن شاء قتلهم وإن شاء استرقهم وإن شاء تركهم أحرارا ذمة للمسلمين، ولا يجوز أن يردهم إلى دار الحرب
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی