سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مجھے ایک شرعی معاملے کے بارے میں رہنمائی درکار ہے۔ میری ایک خالہ کے ساتھ حال ہی میں ایک واقعہ پیش آیا ہے۔
صورتِ حال یہ ہے کہ میرے خالو بعض اوقات گھریلو اختلافات کے دوران خالہ پر ہاتھ اٹھا دیتے ہیں۔ دو دن قبل بھی ایسا ہی ہوا، جس پر خالہ نے اپنے بھائی کو فون کیا۔ تاہم ان کے بھائی کے بجائے ان کا بھتیجا وہاں پہنچ گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ بغیر مکمل صورتحال سنے گھر میں داخل ہوا اور خالو کا گریبان پکڑ کر انہیں گھر سے باہر لے گیا، جہاں ان کے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوئی، یہاں تک کہ ان کے منہ سے خون بھی نکل آیا۔
اس صورتحال میں خالو نے غصے اور اشتعال کی حالت میں یہ الفاظ کہے: "جا، اپنی پھوپھی کو لے جا، میں نے اسے فارغ کر دیا۔" یہ جملہ انہوں نے دو مرتبہ کہا۔ اس وقت خالہ وہاں موجود نہیں تھیں۔ اگلے دن خالہ کے بڑے بھائی آئے اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے، یہ کہتے ہوئے کہ طلاق واقع ہو چکی ہے۔ تاہم اس معاملے میں گواہوں کے بیانات مختلف ہیں؛ بعض کا کہنا ہے کہ "فارغ کر دیا" کے الفاظ دو مرتبہ کہے گئے تھے جبکہ بعض کے مطابق تین مرتبہ کہے گئے۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ شریعتِ اسلامیہ کی رو سے اس صورتِ حال میں کیا حکم ہے؟ کیا مذکورہ الفاظ سے طلاق واقع ہوتی ہے؟ اگر ہوتی ہے تو کتنی طلاق شمار ہوگی؟ نیز گواہوں کے مختلف بیانات اور خالہ کی عدم موجودگی کی صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا؟ جزاکم اللہ خیراً
جواب: واضح رہے کہ "میں نے اسے فارغ کردیا" طلاق کے کنائی الفاظ میں سے ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ اگر یہ الفاظ غصّے کی حالت میں یا طلاق کی گفتگو کے دوران بولے جائیں تو ان سے ایک طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے اور ایک طلاق بائن واقع ہونے کے بعد دوسری طلاق کا محل باقی نہیں رہتا۔
لہٰذا جب شوہرنے پہلی مرتبہ یہ الفاظ کہے تو بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی، اس کے بعد دوبارہ "فارغ کردیا" کے الفاظ دو یا تین مرتبہ استعمال کیے تو اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، اس لیے اگر میاں بیوی ایک دوسرے سے رجوع کرنا چاہتے ہیں تو وہ نئے حق مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کرسکتے ہیں، تاہم شوہر کو آئندہ اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے اور شوہر کو آئندہ کے لیے دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار: و رد المحتار: (3/ 438، ط: دار الفكر)
طلقها واحدة ثم قال: أنت علي حرام ناويا اثنين تقع واحدة كرره مرتين. وقال ابن عابدين تحته: (قوله: تقع واحدة) كذا في الذخيرة والبزازية. ووجهه أنه عبارة عن تكرير هذا اللفظ ألف مرة وهو لو كرره لا يقع إلا الأول لأن البائن لا يلحق البائن.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی