سوال:
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته، مفتی صاحب! میرا کاروبار یہ ہے کہ میرے پاس پلاسٹک پر ایسے نام مثلاً "اللہ"، "محمد" یا ایسے اور کلمات ماشاءاللہ لکھا ہوتا ہے، ہم یہ پلاسٹک کباڑ کے ساتھ ملا کر ایک طرف پھینک دیتے ہیں، اس طرح ہمارے پاس یہ بہت زیادہ جمع ہو جاتے ہیں تو میں یہ چاہتا ہوں کہ کوئی اور ایسا طریقہ کار ہو کہ ہم گناہ سے بچ جائیں اور اس طرح کے پلاسٹک ضائع نہ ہوں۔
جواب: واضح رہے کہ ایسے کاغذات جن میں مقدس نام (اللہ، محمدﷺ) یا کلمات (ماشاء اللہ وغیرہ) لکھے ہوں، ان کا احترام کرنا لازمی ہے، ان کی بے احترامی کرنا یا ان کو کباڑ میں پھینکنا جائز نہیں ہے، اگر حفاظت مشکل ہو تو کباڑ میں پھینکے کے بجائے درج ذیل اقدامات میں سے کسی ایک پر عمل کیا جاسکتا ہے:
1) انہیں کسی محفوظ جگہ دفن کر دیا جائے۔
2) ان کی سیاہی کو پانی میں دھو کر اس پانی کو ایسی جگہ ڈالا جائے، جہاں کسی کے پاؤں نہ لگتے ہوں۔
3) ایسے کاغذات کو کسی نہر، دریا یا سمندر میں بہا دیا جائے۔
4) اگر مذكوره بالا اقدامات كا موقع نہ ہو تو آخری صورت یہ ہے کہ ان کاغذات کو بدرجہ مجبوری جلانے کی گنجائش ہے، تاہم جلانے کے بعد اس کی راکھ کو کسی جگہ دفن کر دیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*صحیح البخاری: (رقم الحدیث: 4987، ط: دار طوق النجاۃ)*
حدثنا موسى، حدثنا إبراهيم، حدثنا ابن شهاب، أن أنس بن مالك، حدثه: أن حذيفة بن اليمان، قدم على عثمان وكان يغازي أهل الشأم في فتح أرمينية، وأذربيجان مع أهل العراق، فأفزع حذيفة اختلافهم في القراءة، فقال حذيفة لعثمان: يا أمير المؤمنين، أدرك هذه الأمة، قبل [ص:184] أن يختلفوا في الكتاب اختلاف اليهود والنصارى، فأرسل عثمان إلى حفصة: «أن أرسلي إلينا بالصحف ننسخها في المصاحف، ثم نردها إليك»، فأرسلت بها حفصة إلى عثمان، فأمر زيد بن ثابت، وعبد الله بن الزبير، وسعيد بن العاص، وعبد الرحمن بن الحارث بن هشام فنسخوها في المصاحف "، وقال عثمان للرهط القرشيين الثلاثة: «إذا اختلفتم أنتم وزيد بن ثابت في شيء من القرآن فاكتبوه بلسان قريش، فإنما نزل بلسانهم» ففعلوا حتى إذا نسخوا الصحف في المصاحف، رد عثمان الصحف إلى حفصة، وأرسل إلى كل أفق بمصحف مما نسخوا، وأمر بما سواه من القرآن في كل صحيفة أو مصحف، أن يحرق.
*رد المحتار: (177/1، ط: دار الفکر)*
المصحف إذا صار بحال لا يقرأ فيه يدفن كالمسلم.
*و فیه أیضاً: (422/6، ط: دار الفکر)*
جميع الكتب إذا بليت وخرجت عن الانتفاع بها اه. يعني أن الدفن ليس فيه إخلال بالتعظيم، لأن أفضل الناس يدفنون. وفي الذخيرة: المصحف إذا صار خلقا وتعذر القراءة منه لا يحرق بالنار إليه أشار محمد وبه نأخذ، ولا يكره دفنه، وينبغي أن يلف بخرقة طاهرة، ويلحد له لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف وإن شاء غسله بالماء أو وضعه في موضع طاهر لا تصل إليه يد محدث ولا غبار، ولا قذر تعظيما لكلام الله عز وجل اه.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی