سوال:
میرا سوال یہ ہے کہ میرے شوہر نے مجھے تین مرتبہ طلاق دی ہے، پہلی طلاق رمضان المبارک میں دی، عدت کے دوران رجوع کرلیا تھا، دوسری اس کے چند ماہ بعد اور تیسری تقریباً ایک ماہ پہلے دی عدت کے اندر دی۔ ہر مرتبہ انہوں نے غصے کی حالت میں صرف اتنا کہا: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔" کیا ان الفاظ سے شرعاً طلاق واقع ہو گئی ہے؟ براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب: پوچھی گئی صورت میں آپ پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں آپ اپنے شوہر پر حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہو گئی ہیں اور اب رجوع کا بھی کوئی طریقہ باقی نہیں رہا، لہٰذا آپ دونوں پر فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنا لازم ہے، اگر اس کے باوجود میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہتے ہیں تو حرام تعلق قائم رکھنے کی وجہ سے سخت گناہ کے مرتکب ہوں گے۔
البتہ اگر عورت عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے اور ان کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہونے کے بعد شوہر خود سے طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہو جائے، اور اس کے بعد عورت اپنی عدت پوری کر لے تو ایسی صورت میں سابق شوہر سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا شرعاً جائز ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکريم: (البقرة، الایة: 229، 230)
﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾ o
﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ﴾ o
صحيح البخاري: (43/7، ط: دار طوق النجاة)
عن نافع كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال لو طلقت مرة أو مرتين فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.
سنن الدار قطنی: (56/5، ط: مؤسسة الرسالة)
ايما رجل طلق امراته ثلاثا عند كل طهر تطليقة او عند راس كل شهر تطليقة او طلقها ثلاثا جميعا لم تحل حتى تنكح زوجا غيره
الهداية: (221/1، ط: دار احیاء التراث العربي)
والحسن هو طلاق السنة وهو أن يطلق المدخول بها ثلاثا في ثلاثة أطهار ... ولنا قوله عليه الصلاة والسلام في حديث ابن عمر رضي الله عنهما "إن من السنة أن تستقبل الطهر استقبالا فتطلقها لكل قرء تطليقة" ولأن الحكم يدار على دليل الحاجة وهو الإقدام على الطلاق في زمان تجدد الرغبة وهو الطهر الخالي عن الجماع فالحاجة كالمتكررة نظرا إلى دليلها
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی