resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: قلموں کے بال بالکل منڈوانے کا حکم

(47228-No)

سوال: میں لمبے بال رکھ رہا ہوں، میرے بالوں کا ایک حصہ جسے "قلم" کہتے ہیں، جو کان کے پاس ہوتا ہے، اُسے شیو کروانا کیسا ہے؟ نیز کیا اُسے شیو کروانے سے "قَزَع" (یعنی سر کے کچھ حصے کے بال منڈوانا اور کچھ چھوڑ دینا) کا حکم لگے گا؟ تفصیل سے بتائیں۔

جواب: واضح رہے کہ سر کے بعض حصے کے بال بالکل منڈوا دینا اور بعض حصے کے بال چھوڑ دینا حدیثِ مبارکہ کے مطابق "قزع" کہلاتا ہے جو شرعاً ممنوع ہے۔ تاہم فقہائے کرام کی تصریح کے مطابق یہ حکم اس صورت میں ہوگا جب منڈوائے گئے بال تین انگلیوں کے بقدر یا اس سے زائد ہوں، چونکہ قلمیں عموماً تین انگلیوں سے کم ہوتی ہیں، اس لیے صرف قلموں کے بال منڈوانا (شیو کروانا) قزع کے حکم میں داخل نہیں ہوگا۔
البتہ اگر قلموں کے بال بڑے ہو جائیں اور بدنما معلوم ہوں تو منڈوانے کے بجائے قینچی وغیرہ سے سیٹ کروا لینے چاہیے تاکہ فسّاق سے مشابہت لازم نہ آئے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*صحيح مسلم: (رقم الحدیث:2120)*
(باب كراهة القزع ) حدثني زهير بن حرب حدثني يحيى يعني بن سعيد عن عبيد الله أخبرني عمر بن نافع عن أبيه عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن القزع. قال: قلت: لنافع وما القزع؟ قال: يحلق بعض رأس الصبي ويترك بعض.

*تکملة فتح الملهم: (باب كراهة القزع،187/4،ط: دارالعلوم کراچی)*
(قوله: قال یحلق بعض رأس الصبي) الخ: قال النووی رحمه الله تعالیٰ: "وهذا الذى فسره به نافع أو عبيد الله هو الأصح، وهو أن القزع حلق بعض الرأس مطلقا، ومنهم من قال هو حلق مواضع متفرقة منه، والصحيح الأول؛ لأنه تفسير الراوى، وهو غير مخالف للظاهر، فوجب العمل به." وأما ما ذکر في صحیح البخاري من قوله "إذا حلق الصبي وترك ههنا شعرة، وههنا شعرة، فالظاهر أنه تمثیل بفرد من أفراد القزع، ولیس تعریفًا له.

*رد المحتار: (6/ 407)*
قوله (وأما حلق رأسه إلخ) … قال ط: ويكره القزع، وهو أن يحلق البعض ويترك البعض قطعا مقدار ثلاثة أصابع، كذا في الغرائب.

*کذا فی التبویب دارالعلوم کراچی:(فتویٰ نمبر:47/2001)*

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things