resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: غسل (عام نہانے) کے بعد نماز کے لیے وضو کا حکم

(47231-No)

سوال: یہ جوغسل سے ہٹ کر عام نہانا ہوتا ہے، کیا اس سے وضو ہو جاتا ہے؟ کیونکہ اس میں وضو کی شرائط تو پوری ہو رہی ہیں، یعنی منہ، بازو اور پاؤں دھل رہے ہیں اور سرکا مسح بھی دھل رہا ہے تو کیا اس نہانے سے وضو ہو جائے گا؟

جواب: واضح رہے کہ اگر عام غسل کے دوران وضو کے تمام اعضاء پر پانی بہہ جائے تو وضو کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے، لہٰذا ایسی صورت میں جب تک کوئی ایسا عمل نہ پایا جائے جو وضو کو توڑ دے، اس وقت تک وضو برقرار رہے گا اور نماز کے لیے الگ سے وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*معارف السنن: (کتاب الطہارۃ، 368/1،ط: سعید)*
ویقول القاضی فی العارضہ: لم یختلف احد من العلماء فی ان الوضوء داخل فی الغسل۔۔۔۔الخ

*الجوھرہ النیرۃ: (کتاب الطہارۃ، 1/ 36،ط:المطبعة الخيرية)*
فرض الطھارۃ غسل الاعضاء الثلاثہ یعنی الوجہ والیدین والقدمین ۔۔۔۔۔ ومسح الراس۔۔الخ

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Purity & Impurity