resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ناف میں زخم کی وجہ سے سرخ مادّہ نکلنے سے وضو، نماز اور کپڑوں کی ناپاکی کا حکم

(42152-No)

سوال: السلام علیکم! میرے ناف (پیٹ کے درمیان) میں انفیکشن کی وجہ سے اندر سے سرخ بھورا مادہ (ڈسچارج) نکل رہا ہے، یہ کبھی کبھی بہتا ہے اور کپڑوں پر بھی لگ جاتا ہے۔ اس ضمن میں سوا؛ل یہ ہے کہ (۱) کیا اس ڈسچارج سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ (۲) کیا یہ نجس ہے اور کپڑوں پر لگنے سے کپڑے ناپاک ہو جاتے ہیں؟ (۳) نماز کا کیا حکم ہے؟ اگر مسلسل نکل رہا ہو تو معذور والا حکم لگے گا یا نہیں؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ مادّہ ناف میں زخم کی وجہ سے نکل رہا ہے تو اس کی وجہ سے وضو ٹوٹ جائے گا، لہٰذا نماز پڑھنے کے لیے نیا وضو کرنا ضروری ہوگا، تاہم اگر مذکورہ مادّے کے خارج ہونے کا دورانیہ اس تسلسل کے ساتھ ہو کہ آپ کو نماز کے پورے وقت میں اتنا موقع بھی نہیں مل پاتا جس میں وضو کر کے فرض نماز بغیر عذر کے ادا کر سکیں تو ایسی صورت میں آپ شرعی معذور شمار ہوں گے، یعنی اس مادہ کے خارج ہونے کی وجہ سے بار بار آپ کے لیے وضو کرنا لازم نہیں ہوگا، بلکہ ایک نماز کے وقت میں وضو کرنے کے بعد اس نماز کا وقت ختم ہونے تک اسی وضو سے آپ کے لیے ہر قسم کی نماز، تلاوت وغیرہ کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس دوران مادہ خارج ہونے کے عذر کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ نماز کا وقت ختم ہوتے ہی وضو ٹوٹ جائے گا اور دوسری نماز کے لیے نیا وضو کرنا لازم ہوگا۔
نیز مذکورہ مادّہ کپڑوں پر لگنے کی وجہ سے کپڑوں کی پاکی اور ناپاکی کا حکم یہ ہوگا کہ اگر آپ کو یقین ہو کہ کپڑے دھونے کے بعد نماز سے فارغ ہونے سے پہلے کپڑے دوبارہ ناپاک نہیں ہوں گے تو کپڑے کے ناپاک حصے کو دھونا ضروری ہوگا، اور اگر نماز سے فارغ ہونے سے پہلے کپڑے دوبارہ ناپاک ہونے کا یقین ہو تو یہ شرعی عذر شمار ہوگا اور کپڑے کا دھونا ضروری نہیں ہوگا، لہٰذا اس صورت میں اسی کپڑے میں آپ کے لیے نماز ادا کرنا درست ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*الدر المختار: (305/1، ط: دار الفکر)*
(وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة)
بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل.

*البحر الرائق: (226/1، ط: دار الکتاب الاسلامی)*
ومن به سلس بول وهو من لا يقدر على امساكه والرعاف الدم الخارج من الأنف والجرح الذي لا يرقأ أي الذي لا يسكن دمه من رقا الدم سكن
وإنما كان وضوءها لوقت كل فرض لا لكل صلاة لقوله عليه الصلاة والسلام المستحاضة تتوضأ لوقت كل صلاة رواه سبط ابن الجوزي عن أبي حنيفة

*الھندیة: (41/1، ط: دار الفکر)*
إذا كان به جرح سائل وقد شد عليه خرقة فأصابها الدم أكثر من قدر الدم أو أصاب ثوبه إن كان بحال لو غسله يتنجس ثانيا قبل الفراغ من الصلاة جاز أن لا يغسله وصلى قبل أن يغسله وإلا فلا هذا هو المختار هكذا في المضمرات۔۔۔۔رجل رعف أو سال عن جرحه الدم ينتظر آخر الوقت فإن لم ينقطع توضأ وصلى قبل أن يغسله قبل خروج الوقت كذا في الذخيرة.

*النتف فى الفتاوىٰ: (35/1، ط: مؤسسة الرسالة)*
فأما الانسان فان ما يخرج منه على ثلاثة اقسام، قسم منه طاهر وبخروجه لا ينتقض الوضوء وان اصاب شيئا لا ينجسه وهو عشرة اشياء..................وقسم منه نجس فنجس وبخروجه يجب الوضوء وهي عشرة أشياء:
البول والمذى والوذى والغائط والقيء والقلس والمرة والدم والقيح والصديد.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Purity & Impurity