سوال:
مفتی صاحب! مسجد کے چپکے ہوئے بڑے کارپٹ سے بچے کے پیشاب اور پاخانے کو کیسے صاف کیا جائے؟ براہ کرم صاف کرنے کا طریقہ بتادیں۔ جزاک اللہ
جواب: واضح رہے کہ اگر مسجد کے چپکے ہوئے کارپٹ پر بچے کا پیشاب یا پاخانہ لگ جائے تو جب تک اس ناپاک حصے کو شرعی طریقے سے پاک نہ کر لیا جائے، اس جگہ نماز ادا کرنا جائز نہیں۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں سب سے پہلے ناپاک جگہ پر موجود ظاہری ناپاکی (اگر پاخانہ وغیرہ ہو) کو کسی کپڑے، ٹشو یا مناسب چیز ( پیٹرول یا کیمیکل وغیرہ) سے اچھی طرح صاف کر لیا جائے، تاکہ وہ ظاہراً صاف ہو جائے۔
اس کے بعد ناپاک جگہ پر اتنا پانی بہایا جائے کہ پوری ناپاک جگہ اچھی طرح پانی میں تر ہو جائے، پھر مشین کے ذریعہ سے اسے کھینچ لیا جائے یا اس پانی کو اس وقت تک چھوڑ دیا جائے کہ اس کی تری ختم ہو جائے یا کسی چیز سے (جیسے بالوں کے ڈرائر) سے اسے خشک کر لیا جائے۔
اس کے بعد یہی عمل اسی ترتیب سے مزید دو مرتبہ دہرایا جائے، یعنی ہر مرتبہ ناپاک جگہ پر پانی بہایا جائے، پھر اس کے خشک ہو جانے کا انتظار کیا جائے، اس طرح مجموعی طور پر تین مرتبہ دھونے سے وہ جگہ پاک ہو جائے گی۔
خشک ہونے کا کم از کم معیار یہ ہے کہ اس کی ایسی تری ختم ہو جائے کہ ہاتھ لگانے سے ہاتھ گیلا نہ ہو، کارپٹ کا مکمل طور پر خشک ہو جانا شرط نہیں۔
۔۔۔۔۔
دلائل:
*الفتاوى الهندية (1/42، مكتبة رشيدية)*
وإن كانت غير مرئية يغسلها ثلاث مرات ، كذا في المحيط ويشترط العصر في كل مرة فيما ينعصر ويبالغ في المرة الثالثة حتى لو عصر بعده لا يسيل منه الماء ، ويعتبر في كل شخص قوته ، وفي غير رواية الأصول: يكتفي بالعصر مرة ، وهو أرفق ، كذا في الكافي وفي النوازل وعليه الفتوى ، كذا في التتارخانية والأول أحوط ، هكذا في المحيط ....
... وما لا ينعصر يطهر بالغسل ثلاث مرات والتجفيف في كل مرة ؛ لأن للتجفيف أثرا في استخراج النجاسة ، وحد التجفيف أن يخليه حتى ينقطع التقاطر ولا يشترط فيه اليبس ، هكذا في التبيين.
*و أيضا (1/41-42، مكتبة رشيدية*
وإزالتها إن كانت مرئية بإزالة عينها وأثرها إن كانت شيئا يزول أثره ولا يعتبر فيه العدد ، كذا في المحيط فلو زالت عينها بمرة اكتفى بها ولو لم تزل بثلاثة تغسل إلى أن تزول ، كذا في السراجية وإن كانت شيئا لا يزول أثره إلا بمشقة بأن يحتاج في إزالته إلى شيء آخر سوى الماء كالصابون لا يكلف بإزالته ، هكذا في التبيين وكذا لا يكلف بالماء المغلي بالنار ، هكذا في السراج الوهاج.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص کراچی۔