resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: غسل کے دوران ریح خارج ہونے سے غسل کا حکم

(42072-No)

سوال: مفتی صاحب! غسل جنابت کرتے ہوئے ہوا خارج ہو جائے تو کیا غسل دوبارہ کرنا ہوگا؟ اور کیا اس غسل سے نماز پڑھ سکتے ہیں؟

جواب: واضح رہے کہ غسل کے دوران ہوا خارج ہو جانے سے صرف وضو ٹوٹتا ہے، غسل فاسد نہیں ہوتا، لہٰذا اگر غسل کرتے ہوئے ہوا خارج ہوئی اور اس کے بعد پورے جسم پر پانی بہا لیا گیا، یا وضو کے اعضاء دوبارہ دھو لیے گئے تو نیا وضو کرنے کی ضرورت نہیں، اسی حالت میں نماز ادا کی جا سکتی ہے، البتہ اگر ہوا خارج ہونے کے بعد وضو کے اعضاء نہ دھوئے ہوں تو نماز وغیرہ ادا کرنے سے پہلے دوبارہ وضو کرنا ضروری ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*الدر المختار: (159/1، ط: سعید)*
(وفرض) الغسل (عند) خروج (مني) من العضو وإلا فلا يفرض اتفاقا۔۔۔إلخ

*رد المحتار:(254/1،ط: سعید)*
واعلم أن كل ما نقض الغسل مثل المني نقض الوضوء ويزيد الوضوء بأنه ينتقض بمثل البول (إلی قوله) إذا تيمم الجنب ثم أحدث لا ينتقض تيممه عن الجنابة؛ لأن الحدث لا ينقض أصله وهو الغسل، (إلی قوله) أما إذا كان مع الجنابة حدث يوجب الوضوء يجب عليه الوضوء، فالتيمم للجنابة بالاتفاق اه مشكل؛ لأن الجنابة لا تنفك عن حدث يوجب الوضوء اھ

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Purity & Impurity